بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

جہیز پر پابندی کے بل کے حوالے سے بڑا فیصلہ

datetime 24  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے جہیز پر مکمل پابندی سے متعلق پیش کیے گئے بل کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔یہ مسودۂ قانون پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، جس میں جہیز کے مطالبے اور اس سے جڑے طریقۂ کار کو قابلِ سزا جرم بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔ بل میں خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے اور قانونی کارروائی کی شقیں بھی شامل تھیں۔مسودے میں یہ وضاحت بھی موجود تھی کہ والدین اگر کسی دباؤ کے بغیر اپنی مرضی سے تحائف دینا چاہیں تو اس کی اجازت ہوگی، تاہم اس کے باوجود کمیٹی کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر اسے قابلِ نفاذ نہ سمجھتے ہوئے منظور کرنے سے انکار کر دیا۔اجلاس کے بعد شرمیلا فاروقی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X)

پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی میں ہونے والی گفتگو نے جہیز کی حوصلہ شکنی کے بجائے بالواسطہ طور پر اس روایت کو معمول بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہیز کسی ثقافت کا حصہ نہیں بلکہ خواتین اور ان کے خاندانوں پر ایک سماجی دباؤ ہے، اور ریاست کو نقصان دہ روایات کے تحفظ کے بجائے خواتین کے حق میں کھڑا ہونا چاہیے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جہیز کے خلاف ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ مختلف فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کرتی رہیں گی۔ ان کے مطابق سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے قانون سازی ناگزیر ہے، چاہے یہ راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔واضح رہے کہ رواں برس جولائی میں سپریم کورٹ نے بانجھ پن کی بنیاد پر جہیز یا نان نفقہ سے انکار کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جہیز کی روایت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سماجی رویہ خواتین کے لیے عدالتی عمل کو بھی ذلت آمیز بنا دیتا ہے۔اسی طرح گزشتہ سال اسلامی نظریاتی کونسل نے جہیز اور برائیڈل گفٹ ایکٹ میں ترامیم کی تجویز دی تھی، جس میں جہیز قوانین کی خلاف ورزی پر سزا چھ ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے اور جہیز کی زیادہ سے زیادہ حد میں اضافے کی سفارش شامل تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…