بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

افغان باشندوں کی اطلاع دینے پر 10 ہزار روپے کیش کی انعامی سکیم، حقیقت سامنے آ گئی

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پنجاب پولیس نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی نشاندہی کرنے پر 10 ہزار روپے کے انعام کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات سراسر غلط اور بے بنیاد ہیں۔پولیس ترجمان کے مطابق کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ افواہیں پھیل رہی تھیں کہ پنجاب پولیس نے غیرقانونی افغان باشندوں کی اطلاع دینے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان کیا ہے، تاہم ایسا کوئی فیصلہ یا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ترجمان نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جھوٹی اور من گھڑت پوسٹس پر یقین نہ کریں اور نہ ہی ایسی گمراہ کن معلومات کو آگے پھیلائیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔خیال رہے کہ رواں سال مارچ میں افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز اور دیگر غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو رضاکارانہ وطن واپسی کی دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ان افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔

بعد ازاں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اعلان کیا تھا کہ 30 ستمبر کے بعد وہ افغان شہری جو بغیر قانونی حیثیت یا سفارتی ویزا پروسیس کے پاکستان میں مقیم ہیں، انہیں بھی غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے ملک گیر کریک ڈاؤن میں ایسے افغان شہریوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جارہے ہیں جو بغیر دستاویزات کے رہائش پذیر ہیں، کاروبار کرتے ہیں یا جعلی شناختی کارڈ استعمال کرتے ہیں۔ اس دوران یہ افواہ بھی پھیلی کہ پولیس نے شہریوں کے لیے انعامی اسکیم متعارف کروائی ہے جس کے تحت معلومات فراہم کرنے والوں کو 10 ہزار روپے دیے جائیں گے، یہاں تک کہ مکان مالکان اور دکانداروں کے خلاف بھی کارروائی کی بات کی گئی جو غیر قانونی افغان شہریوں کو جگہ دیتے ہیں۔تاہم پنجاب پولیس نے تازہ بیان میں تمام تر افواہوں کی تردید کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ایسی کوئی انعامی اسکیم موجود نہیں اور یہ خبریں محض جھوٹ کا پلندا ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…