منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

مریم نواز کے خلاف نامناسب الفاظ استعمال کرنے والاشہری عدالتی حکم پر بازیاب، رہائی بھی مل گئی

datetime 15  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)لاہور میں حکومت پر تنقید کے بعد مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے شہری ساجد نواز کو عدالت کے احکامات پر بازیاب کروا لیا گیا۔ بازیابی کے بعد انہیں ماڈل ٹاؤن کچہری میں پیش کیا گیا، جہاں گرین ٹاؤن تھانے کی پولیس نے انہیں عدالت کے روبرو پیش کیا۔ عدالت نے ساجد نواز کو مقدمے سے بری کرتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دے دیا۔ذرائع کے مطابق، ساجد نواز کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ بارش کے دوران سڑک پر کھڑے پانی میں سے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے حکومت، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آرمی چیف پر ناپسندیدہ زبان میں تنقید کر رہے تھے۔

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد وہ اچانک لاپتہ ہو گئے۔ان کی گمشدگی پر ان کے بیٹے عمر ساجد نے لاہور کی سیشن عدالت میں درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ والد کو دو روز سے بغیر کسی مقدمے کے حراست میں رکھا گیا ہے۔ بیٹے کا مزید کہنا تھا کہ ایس ایچ او جوہر ٹاؤن نے ان کے والد کو بلاجواز گرفتار کیا اور ان سے معافی کی ویڈیوز بھی ریکارڈ کروا کر سوشل میڈیا پر جاری کیں۔

عدالت میں اس مقدمے کی پیروی ایڈووکیٹ سمیر خان خٹک اور ایڈووکیٹ نعمان سرور ڈوگر نے کی۔ ایڈیشنل سیشن جج غلام فرید نے اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی کہ اگر مغوی پولیس کی تحویل میں ہو تو اسے 15 جولائی کو عدالت میں پیش کیا جائے۔یاد رہے کہ شہری کی پہلی ویڈیو میں اسے بارش کے پانی سے بھرے راستے میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جبکہ بعد ازاں ایک تصویر میں اسے پولیس وین میں بیٹھا دیکھا گیا، جس پر عوامی ردعمل بھی سامنے آیا تھا۔ تاہم، عدالت کے فیصلے کے بعد ساجد نواز کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا گیا اور انہیں رہا کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…