منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ایک کروڑ 60 لاکھ نقد اور 40 تولہ سونا چوری کا ڈراپ سین، گھر کی مالکن ہی ماسٹر مائنڈ نکلی

datetime 28  جون‬‮  2025 |

راولپنڈی(این این آئی)گھر سے ایک کروڑ 6 لاکھ روپے نقد اور 40 تولہ سونے کی چوری کا معما حل ہوگیا، جس میں گھر کی مالکن خود ہی واردات کی ماسٹر مائنڈ نکلی۔پولیس کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حقیقت کو بے نقاب کیا گیا، جس میں حیران کن طور پر گھر کی مالکن خود ہی اس چوری کی منصوبہ ساز نکلی، جس نے اپنے ہی ڈرائیور کے ساتھ مل کر واردات کی منصوبہ بندی کی تھی۔تھانہ ویمن ریس کورس پولیس کے مطابق واردات اس وقت کی گئی جب گھر کے دیگر افراد موجود نہیں تھے۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مالکن نے خود ڈرائیور کو اسلحہ دے کر چوری کروائی۔

ایس ایچ او کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والا پستول بھی خاتون نے خود فراہم کیا، جو بعد ازاں برآمد کر لیا گیا۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ واردات کے فوراً بعد ملزمہ نے ڈرائیور سے خفیہ جگہ پر ملاقات کی، جہاں اس نے تمام نقدی اور سونا لے لیا اور بعد ازاں ڈرائیور کا نمبر بلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے اعتراف کیا کہ پیسے اور سونے کی لالچ میں اس نے ڈکیتی کا ڈراما رچایا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔پولیس حکام کے مطابق بروقت کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے کچھ نقد رقم، سونا اور واردات میں استعمال ہونے والا پستول برآمد کر لیا گیا ہے۔ دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ایس پی سول لائنز نے اس موقع پر کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…