منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

شہری نے اپنے بیٹے کی دونوں آنکھیں، جگر اور گردے عطیہ کردیئے، 5 افراد کو نئی زندگی مل گئی

datetime 12  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا کے شہر مردان میں ایک باہمت باپ نے اپنے نوعمر بیٹے کے انتقال کے بعد ایسا فیصلہ کیا جس نے پانچ لوگوں کی زندگی بدل دی۔ رستم بازار کے رہائشی نورداد، جو ایک آٹا چکی چلا کر گزر بسر کرتے ہیں، نے اپنے 14 سالہ بیٹے جواد خان کے اعضاء عطیہ کر دیے، جو ایک ٹریفک حادثے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق، 31 مئی کو جواد خان، جو نویں جماعت کا طالب علم تھا، اسکول جاتے ہوئے ایک گاڑی کی زد میں آ گیا۔ حادثے کے بعد شدید زخمی جواد کو فوراً قریبی اسپتال منتقل کیا گیا اور والد نے اس کی جان بچانے کی بھرپور کوشش کی۔ کئی ہسپتالوں کے چکر لگانے کے باوجود ڈاکٹروں نے بتایا کہ جواد کی حالت نازک ہے اور اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔ جب طبی ماہرین نے واضح کیا کہ جواد کے بچنے کی امید باقی نہیں رہی تو والد نے انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت بیٹے کے اعضاء عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد جواد کی دونوں آنکھیں، جگر اور گردے عطیہ کر دیے گئے، جن کی بدولت پانچ افراد کو نئی زندگی ملی۔

جواد کو 7 جون کو سپرد خاک کر دیا گیا، تاہم اس کے اہل خانہ کو اس بات کا سکون ہے کہ ان کے بیٹے کا وجود کسی نہ کسی صورت دوسروں میں زندہ ہے۔محلے والوں اور اہل علاقہ نے اس فیصلے کو انسانیت کی اعلیٰ مثال قرار دیا۔ جواد کے دادا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں بائی پاس سڑک تعمیر کی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے جان لیوا حادثات سے بچا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…