منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

محبت کی خاطر کراچی آنے والی امریکی خاتون نفسیاتی قرار

datetime 30  جنوری‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے لڑکے کی محبت میں گرفتار ہوکر شادی کرنے کیلیے پاکستان آنے والی امریکی خاتون کو پولیس نے نفسیاتی قرار دیتے ہوئے حفاظتی تحویل میں لے لیا تاہم فلاحی اداروں کے انکار پر خاتون کو دوبارہ گارڈن میں قائم اپارٹمنٹ لے آئی۔امریکا سے آئی خاتون اپنی محبت کی تلاش کیلیے گارڈن میں قائم لڑکے کے اپارٹمنٹ پہنچیں اور انہوں نے وہاں پر دھرنا دیا۔ خاتون نے کہا کہ وہ اپنی منزل کے قریب ہیں اور اب شادی کے بغیر واپسی نہیں جائیں گی۔کچھ دیر بعد پولیس کے اعلی افسران اپارٹمنٹ پہنچے جس میں ایس سی ڈی پی او ڈیفنس فائزہ بھی شامل تھیں۔

انہوں نے خاتون سے بات چیت کے بعد کہا کہ مجھے غیر ملکی خاتون کی موجودگی کے حوالے سے ایس پی سٹی کی جانب سے احکامات موصول ہوئے تھے، امریکی خاتون کے لیے سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ خاتون ذہنی طور پر ٹھیک نہیں، وہ تنہا ہے اور ہم اسے سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں، ہم اسے تحفظ فراہم کرنے آئے ہیں، وہ ہماری مہمان ہیں اسکا تحفظ کر رہے ہیں۔پولیس نے خاتون کو حفاظتی تحویل میں لے کر محفوظ مقام پر منتقل کیا اور خاتون افسر نے کہا کہ محفوظ مقام پر پہنچ جائے گی تو ہم اس سے کچھ بات کر سکیں گے۔ایس پی سٹی عارف عزیز نے بتایا کہ امریکن خاتون کو کوئی فلاحی ادارہ رکھنے کے لیے تیار نہیں، امریکن خاتون کو واپس گارڈن کی بلڈنگ میں پہنچادیا گیا ہے۔قبل ازیں امریکی خاتون ائیر پورٹ سے گارڈن میں قائم علی اپارٹمنٹ پہنچیں اور کہا کہ ان کا شوہر ندال احمد اسی اپارٹمنٹ کا رہائشی ہے۔

یونین کے سمجھانے پر خاتون نے کہا کہ میں یہاں سے کسی صورت نہیں جائوں گی، مجھے حکومت پاکستان شہریت اور پانچ ہزار ڈالر دے۔دوسری جانب یونین نے کہا کہ ندال احمد نام کا کوئی فرد اس اپارٹمنٹ میں نہیں رہتا، جو پتہ خاتون بتا رہی ہیں اس فلیٹ پر تالا ہے جبکہ امریکی خاتون کے بیان میں تضاد ہے۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ انہیں اب پتہ چلا کہ امریکی خاتون ندال کے گھر میں رہائش پزیر تھی اور یہ بات چھپائی گئی تھی، علاقہ مکینوں نے بتایا کہ ندال میمن آج دن میں اپنی موٹرسائیکل پر فلیٹ سے بڑی تیزی سے نکل کر بھاگا تھا جاتے ہوئے اس نے ایک دوسری موٹرسائیکل کو ٹکر بھی ماری تھی تاہم وہ رکا نہیں اور چلا گیا ، جبکہ ندال کے جانے کے کچھ دیر بعد اس کے گھر والے بھی فلیٹ کو تالا لگا کر چلے گئے۔



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…