منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

محبت میں مبتلا بیوی نے طلاق نہ دینے پر شوہر کو قتل کردیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)سہراب گوٹھ پولیس نے شوہر کو قتل کرنے کے الزام میں مقتول کی اہلیہ، سسر اور سالے کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کو ملزمہ نے پہلے کوئی چیز کھلائی اس کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کر دیا، ملزمہ نے واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قتل کا معمہ حل ہوگیا۔سہراب گوٹھ پولیس نے زیر حراست ملزمہ نور ثمینہ، اس کے والد محمد ندیم ولد علی محمد اور بھائی یامین کو گرفتار کرکے 302/34 کے تحت مقتول کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔

ایس ایچ او سہراب گوٹھ سب انسپکٹر وزیر سموں نے بتایا کہ 22 دسمبر کو اسکیم 33 جمالی گوٹھ غریب آباد گلی نمبر 5 میں ایک شخص کی لاش کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ مقتول کی شناخت 28 سالہ شاہد علی ولد محمد قاسم کے نام سے کی گئی، پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے مقتول کی اہلیہ نور ثمینہ کا بیان قلمبند کیا تھا جس میں تضاد پایا گیا۔ملزمہ نے بتایا تھا کہ وہ سو رہی تھی جب صبح اٹھی تو اس کے شوہر کی لاش چھت میں لگے پنکھے سے لٹک رہی تھی جس پر اس نے فوری طور پر مقتول کے بھائی کو اطلاع دی اور اپنی مدد آپ کے تحت لاش کو اتار کر کرسی پر ڈال دیا۔

مقتول کے بھائی نے موقع پر پہنچ کر واقعے کی اطلاع پولیس کو دی، پولیس نے مقتول کی اہلیہ کو شک کی بنیاد پر حراست میں لے لیا تھا۔ایس ایچ او نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایم ایل او نے بتایا کہ مقتول شاہد علی کو ہفتے کی شب کھانے میں کوئی چیز ملا کر کھلائی گئی جس سے وہ بیہوش ہوگیا، بعد ازاں ملزمان نے گلا گھونٹ کر قتل کردیا، ملزمہ نور ثمینہ نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے والد اور بھائی کی مدد سے اپنے شوہر کو قتل کیا۔ ملزمہ نے بتایا کہ وہ کافی عرصہ سے اپنے شوہر سے طلاق دینے کا بول رہی تھی تاہم وہ طلاق دینے کو تیار نہیں تھا، ملزمہ کسی اور شخص سے محبت کرتی تھی، ہفتے کی رات کو ملزمہ رات دس بجے اور مقتول رات ایک بجے گھر آئے تھے دونوں میں کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا بعد ازاں ملزمہ نے منصوبے کے تحت شوہر کو قتل کردیا، مقتول الیکٹریشین اور دو بچوں کا باپ تھا، ملزمان کو شعبہ تفتیش کے حوالے کردیا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…