جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

عمران خان سے ملاقات نہ کروانے کا کیس، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی معافی منظور

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات نہ کروانے کے کیس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور آر پی او راولپنڈی کی غیرمشروط معافی منظور کرلی۔پی ٹی آئی رہنما عمرایوب کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے سماعت کی، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم اور آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور آر پی او راولپنڈی کی غیر مشروط معافی منظور کرتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاق اور پنجاب کے سیکریٹری داخلہ سے بھی بیانِ حلفی طلب کر رکھے ہیں۔عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کے کیس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے استدعا کی کہ آخری موقع دے دیں آئندہ نہیں ہوگا اور عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد ہوگا، انہوں نے عدالت میں بیان حلفی پیش کیا۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بھی عدالت سے غیر مشروط معافی طلب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے حوالے سے پولیس کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا، ہم سوچ بھی نہیں سکتے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کریں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ بچے بچے کو معلوم تھا کورٹ نے آرڈر کیا تھا آپ کہہ رہے ہیں ہمیں یہ آرڈر معلوم ہی نہیں، ان کے بیان حلفی کے مطابق 2 بجے وہ اڈیالہ جیل کے گیٹ پر تھے اور 4 بجے تک موجود رہے۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ گیٹ یر موجود نہیں تھے، میں نے اپنے بیان حلفی میں بھی ذکر کیا ہے، دو روز قبل ان کو میسج بھی کیا کہ ملاقات کے لیے آئیں لیکن وہ نہیں آئے۔جسٹس سردار اعجاز اسحٰق نے کہا کہ مستقل بنیادوں پر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہورہی ہے، اس طرح کھڑے کھڑے لوگوں کو پکڑنے پر آپ اپنی ساکھ کھو رہے ہیں، مجھے پتہ ہے آپ نے جان بوجھ کے نہیں کیا آپ سے کروایا گیا ہے، یا پھر یہ نام بتا دیں ان کو کس نے آرڈر کیا تھا ہم ان کو نوٹس کر دیں گے۔ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے استدعا کی کہ عدالت ایک آخری موقع دے دے، میں نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو اس وقت کال کی۔

پی ٹی آئی کے شعیب شاہین نے عدالت کو بتایا کہ ہم گیٹ کے اندر موجود تھے اس کی ویڈیوز موجود ہیں، اپوزیشن لیڈر کو گھسیٹتے ہوئے لیکر جاتے ہیں، کوئی اور بندے نہیں تھے وہ صرف 5 بندے ہی موجود تھے، ہمارے ملک کا نظام ہی ایسا ہے۔جسٹس سردار اعجاز اسحق خان نے ریمارکس میں کہا کہ شعیب صاحب ملک کا نظام ایک یا دو عدالتوں سے ٹھیک نہیں ہو گا، آپ کے ملک کا نظام عدالتوں کے ہاتھ سے نکل کر پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جا چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…