پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کتنےفیصد پاکستانی ملکی حالات میں بہتری کیلئے پرامید ہیں؟ نیا سروے جاری

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

لاہور( این این آئی)فرانسیسی تحقیقاتی ادارے ”اپسوس ”نے گلوبل ٹرینڈز 2024 سروے جاری کر دیاہے جس میں کہا گیاہے کہ پاکستانی شہریوں کی 56 فیصد اکثریت ملکی حالات میں بہتری کیلئے پرامید ہیں ۔ سروے کے مطابق شہریوں کی رائے ہے کہ اگلے 12 ماہ کے دوران پاکستان کے حالات بہتر ہوجائیں گے، 20 فیصد پاکستانیوں کو ملکی حالات میں بہتری آتی دکھائی نہیں دے رہی، 20 فیصد نے کوئی جواب نہیں دیا جبکہ 3 فیصد نے لاعلمی کا اظہار کیا، صرف 24 فیصد پاکستانیوں کے خیال میں وہ 100 سال تک زندہ رہیں گے جس کی وجہ انہوں نے ملاوٹ شدہ خوراک، ناقص صحت کا نظام،ذہنی تنا،اعتماد کا فقدان قرار دیا ۔

سروے کے مطابق پاکستان اور بھارت نوجوانوں کی سماجی حیثیت سے متعلق سوال کرنے میں ٹاپ پرہیں ، پاکستان میں 80 فیصد کیسزمیں پوچھا جاتا ہے”لڑکا کرتا کیا ہے”، پاکستانی مقامی مصنوعات کی بجائے درآمدی برانڈڈ مصنوعات پسند کرنے میں سرفہرست ہیں ۔سروے کے مطابق 70 فیصد پاکستانیوں کے مطابق گلوبل برینڈڈ پروڈکٹس لوکل مصنوعات سے زیادہ بہتر ہیں، پاکستان میں لوگ ذاتی کامیابی کو زیرملکیت اشیا ء کی بنیاد پرجانچتے ہیں، 76 فیصد پاکستانی موجودہ دورکے بجائے پرانے دور کو زیادہ بہتر گردانتے ہیں، 33 فیصد پاکستانیوں کے نزدیک ان کی زندگی میں معاشرہ ٹوٹ پھوٹ جائے گا تاہم 56 فیصد پاکستانی شہریوں کے خیال میں ایسا نہیں ہوگا۔

اپسوس گلوبل ٹرینڈز سروے کے مطابق 68 فیصد کے نزدیک پاکستان میں مختلف پس منظر کے حامل لوگوں کا احترام ہے، پاکستان اس قسم کی سوچ کے حامل ممالک کی فہرست میں 7 ویں نمبر پر ہے، 69 فیصد پاکستانیوں کے نزدیک مصنوعی ذہانت سے روزگار میں اضافہ ہوگا۔ سروے کے مطابق پاکستان میں خواتین کے کردار، مذہب، بچوں کی اہمیت بارے روایتی سوچ برقرار ہے ،پاکستان خواتین کے بارے میں روایتی سوچ میں سرفہرست ہے، خواتین کا کردار اچھی ماں اوربیوی کے طورپر ہی زیادہ اچھا سمجھا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…