ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانیوں کا ڈیٹا 2.1 ارب ڈالرز میں ڈارک ویب پر فروخت کا انکشاف

datetime 14  اکتوبر‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)سندھ ہائی کورٹ میں ساڑھے 11 کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کے کیس کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگ لی۔وزارتِ آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نے جواب جمع نہیں کرایا، جس پر عدالت نے 15 روز میں متعلقہ حکام سے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن سے جواب طلبی ضروری ہے، وفاقی حکومت قانون سازی میں مسلسل تاخیر کر رہی ہے، ابھی تک کوئی نیشنل سائبر پالیسی نہیں، سائبر سے متعلق پاکستان میں 4 بڑے واقعات ہو چکے، پرنسپل ڈیٹا پروٹیکشن بل 2023ئ میں اسمبلی میں لایا گیا تھا۔عدالت نے ہدایت کی کہ بل منظور ہوا یا نہیں اس کی بھی تفصیلات پیش کی جائیں۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پاکستانیوں کا ڈیٹا 2.1 ارب ڈالرز میں ڈراک ویب پر فروخت کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…