ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

حکومتی جماعتیں آئینی ترامیم پر ایک پیج پر، جے یو آئی کا ساتھ دینے سے انکار

datetime 12  اکتوبر‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)آئینی ترامیم کے معاملے پر حکومتی اتحادی جماعتیں ایک پیچ پر آگئیں ، جے یو آئی نے ساتھ دینے سے انکار کر دیاجبکہ مجوزہ آئینی ترامیم پر مشاورت کیلئے قائم پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے ترامیم سے متعلق سفارشات کی تیاری کیلئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی،ذیلی کمیٹی میں پی ٹی آئی کے 2ارکان کو بھی شامل کیا گیا ، کمیٹی 2روز میں سفارشات مرتب کرکے خصوصی کمیٹی کو دے گی۔نجی ٹی وی کے مطابق آئینی ترامیم کے مسودے پر اتفاق رائے کیلئے پارلیمانی خصوصی کمیٹی کا اجلاس خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا جس میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

جے یو آئی نے آئینی ترامیم پر خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں مجوزہ مسودہ پیش کرتے ہوئے آئینی عدالت پر حکومت کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا اور آئینی عدالت کی جگہ بینچ تشکیل دینے کی تجویز دیدی۔اجلاس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے ڈرافٹ میں صرف آئینی عدالت اور بینچ کا فرق ہے، پیپلز پارٹی کے باقی ڈرافٹ پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں، امید ہے جلد دونوں جماعتیں مشترکہ ڈرافٹ پر اتفاق کر لیں گی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت کے 56نکاتی مسودے کے جواب میں 24نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ 200سے بھی کم آئینی مقدمات کیلئے بڑے سیٹ اپ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اجلاس میں موجودشیری رحمان نے کہا کہ کوئی چیز پرفیکٹ نہیں ہوتی، آئینی ترمیم بھی پرفیکٹ نہیں ہوگی، آئینی ترمیم میں شفافیت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، کوشش ہے کہ اتفاق رائے ہو جائے۔دوسری جانب حکومت جے یو آئی کی ترامیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے اور خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں حکومتی جماعتیں آئینی ترامیم کے معاملے پر ایک پیج پر آگئیں۔ذرائع کے مطابق حکومت کی آئینی ترامیم کے 56نکاتی مسودہ پر پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت ہے، حکومت نے مولانا فضل الرحمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کا حصہ بنایا، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر بھی ویڈیو لنک پر اجلاس میں شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اجلاس میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کا شکوہ کیا جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ ابھی آئینی ترمیم پر تجویز دیں یہ معاملہ بعد کا ہے۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر علی ظفر نے بھی آئینی ترامیم کے حوالے سے اپنی تجاویز کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیں۔آئینی ترامیم کے معاملے پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس 17اکتوبر کو دوبارہ ہو گا، چند ممبر تمام جماعتوں کے مسودے اکھٹا کر کے ایک ڈرافٹ بنائیں گے۔

مجوزہ آئینی ترامیم پر مشاورت کیلئے قائم پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے ترامیم سے متعلق سفارشات کی تیاری کیلئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی،ذیلی کمیٹی میں پی ٹی آئی کے 2ارکان کو بھی شامل کیا گیا ہے، کمیٹی 2روز میں سفارشات مرتب کرکے خصوصی کمیٹی کو دے گی۔ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کوئی بھی شرکت کر سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…