بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

محمد یوسف کا قومی ٹیم کے سلیکٹر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان

datetime 30  ستمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے قومی ٹیم کے سلیکٹر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔محمد یوسف نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں، پاکستان ٹیم کے لیے خدمات انجام دینا اعزاز کی بات ہے۔

انہوںنے کہا کہ انہیں پاکستان کرکٹ کی ترقی میں کردار ادا کرنے پر فخر ہے، جب کہ مجھے اپنے کھلاڑیوں کے ٹیلنٹ اور جذبے پر بے پناہ بھروسہ ہے۔محمد یوسف نے قومی ٹیم کے لیے مستقبل میں نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) نے محمد یوسف کے استعفیٰ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ پی سی بی میں دیگر اہم ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔پی سی بی کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ کرکٹ بورڈ محمد یوسف کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے سلیکشن کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے گرانقدر خدمات انجام دیں۔

بیان میں کہا گیا کہ محمد یوسف کرکٹ بورڈ میں اہم ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے اور ہائی پرفارمنس سینٹر میں بطور بیٹنگ کوچ اپنے تجربے کو بروکار لاتے ہوئے خدمات سرانجام دیں گے۔واضح رہے کہ محمد یوسف کا شمار پاکستان کے چند کامیاب ترین بلے بازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے 1998 سے 2010 تک اپنے کیریئر میں 7530 ٹیسٹ رنز اور 9720 ون ڈے رنز اسکور کیے۔محمد یوسف کو ٹیسٹ کرکٹ میں ایک کیلنڈر سال (2006) میں سب سے زیادہ 1788 رنز بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…