ہفتہ‬‮ ، 05 ستمبر‬‮ 2026 

بارش برسانے والا نیا سسٹم آج پاکستان میں داخل ہوگا

datetime 25  ستمبر‬‮  2024 |

لاہور( این این آئی)بارش برسانے والا نیا سسٹم آج پاکستان میں داخل ہوگا جس کی وجہ سے پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا نے الرٹ جاری کرتے ہوئے پورے صوبہ کے ڈپٹی کمشنرز کو مشینری سمیت عملہ کوالرٹ رکھنے کی ہدایت کردی ہے۔پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری الرٹ میں کہا گیا ہے کہ 26 ستمبر سے یکم اکتوبر تک تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

اعلامیے کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہائوالدین، گجرات، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد، ساہیوال، جھنگ، فیصل آباد، اوکاڑہ، پاکپتن، قصور اور لاہور میں تیز ہواوں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا نے صوبہ بھر کی مقامی انتظامیہ کوالرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈبل ون ڈبل ٹو سمیت دیگر ریسکیو ادارے مشینری سمیت عملہ الرٹ رکھیں۔ نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کو جلد از جلد ممکن بنائیں۔ عوام الناس کچے مکانات اور بوسیدہ عمارتوں سے دور رہیں اور بچوں کو نشیبی علاقوں میں جمع پانی کے قریب نہ جانے دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…