اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

دہشتگرد بلیک میل کرکے بلوچ خواتین کو ورغلاتے ہیں، گرفتار خودکش حملہ آور عدیلہ بلوچ

datetime 25  ستمبر‬‮  2024 |

کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان کے علاقہ تربت سے گرفتار خودکش بمبار خاتون عدیلہ بلوچ نے کہا ہے کہ ان کی برین واشنگ کی گئی اور ورغلایا گیا۔ والدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خودکش بمبار خاتون نے کہا کہ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم تربت سے حاصل کی اور کوئٹہ سے نرسنگ کا کورس کیا۔

عدیلہ بلوچ نے کہا کہ انہیں ورغلایا گیا اور انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ خودکش حملوں کے بعد ان کی جان جاسکتی ہے اور ان کی وجہ سے کتنے لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔انہوں نے کہا انہیں اپنی غلطی کا احساس تب ہوا جب وہ پہاڑوں پر گئی، انہیں کہا گیا تھا کہ پہاڑوں پر جاکر آپ کو نئی زندگی ملے گی لیکن وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا، وہاں پر بہت سخت حالات تھے اور ایسے نوجوان موجود تھے جو اسی طرح بہکائے گئے تھے۔عدیلہ بلوچ نے کہا کہ آج کل جو تاثر دیا جارہا ہے کہ بلوچ خواتین اپنی مرضی سے خودکش حملہ کرتی ہیں یہ بات غلط ہے، ہمیں بلیک میل کر کے اور ورغلا کر لے جایا جاتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ وہ غلط راستہ پر چل رہی تھی لیکن انہیں کچھ سمجھ نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ حکومت بلوچستان کی شکر گزار ہیں جن کی وجہ سے وہ بچ گئی، وہ بہت بڑے گناہ کر رہی تھی، وہ یہ نصیحت کرنا چاہتی ہیں کہ اس طرح کے لوگوں کی باتوں میں کبھی نہ آئیں، یہ لوگ آپ کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس موقع پر گرفتار خودکش بمبار خاتون کی والدہ نے کہا کہ خواتین کو دہشت گرد اپنے مقاصد کے استعمال کرتے ہیں، دہشت گرد ہماری مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، بیٹی کے لاپتا ہونے کے بعد ایک ایک دن کرب اور مصیبت میں گزارا۔

گرفتار دہشت گرد خاتون کے والد نے کہاکہ انہوں نے اپنی تنخواہ سے گھر چلایا اور بچوں کو بھی پڑھایا، ان کی بیٹی کامیاب ہوئی اور اس کو روزگار مل گیا، یہ لوگ صرف اپنے مفاد کیلیے پہاڑوں پر لے جاتے ہیں،میری بیٹی نے مجھے کہا تھا ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں۔اس موقع پر رکن بلوچستان اسمبلی فرح عظیم شاہ نے کہا کہ ریاست نے کھلے دل کے ساتھ عدیلہ بلوچ اور ان کے اہلخانہ کو قبول کیا ہے، وہ بلوچوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ اس لڑائی کو بند کیا جائے، اس میں نقصان صرف بلوچستان اور اس کی معصوم عوام کا ہے۔

فرح عظیم شاہ نے کہاکہ حقوق کی بات کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن جہاں پر پاکستان کے آئین اور ریڈ لائن کی بات آئے گی وہاں ریاست کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، جن کے بچے پہاڑوں پر ہیں ان کے والدین ہم سے رابطہ کریں، ریاست سے اگر شکایات ہیں تو ہم ان کا ازالہ کرنے کو تیار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…