اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

دہشتگرد بلیک میل کرکے بلوچ خواتین کو ورغلاتے ہیں، گرفتار خودکش حملہ آور عدیلہ بلوچ

datetime 25  ستمبر‬‮  2024 |

کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان کے علاقہ تربت سے گرفتار خودکش بمبار خاتون عدیلہ بلوچ نے کہا ہے کہ ان کی برین واشنگ کی گئی اور ورغلایا گیا۔ والدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خودکش بمبار خاتون نے کہا کہ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم تربت سے حاصل کی اور کوئٹہ سے نرسنگ کا کورس کیا۔

عدیلہ بلوچ نے کہا کہ انہیں ورغلایا گیا اور انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ خودکش حملوں کے بعد ان کی جان جاسکتی ہے اور ان کی وجہ سے کتنے لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔انہوں نے کہا انہیں اپنی غلطی کا احساس تب ہوا جب وہ پہاڑوں پر گئی، انہیں کہا گیا تھا کہ پہاڑوں پر جاکر آپ کو نئی زندگی ملے گی لیکن وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا، وہاں پر بہت سخت حالات تھے اور ایسے نوجوان موجود تھے جو اسی طرح بہکائے گئے تھے۔عدیلہ بلوچ نے کہا کہ آج کل جو تاثر دیا جارہا ہے کہ بلوچ خواتین اپنی مرضی سے خودکش حملہ کرتی ہیں یہ بات غلط ہے، ہمیں بلیک میل کر کے اور ورغلا کر لے جایا جاتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ وہ غلط راستہ پر چل رہی تھی لیکن انہیں کچھ سمجھ نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ حکومت بلوچستان کی شکر گزار ہیں جن کی وجہ سے وہ بچ گئی، وہ بہت بڑے گناہ کر رہی تھی، وہ یہ نصیحت کرنا چاہتی ہیں کہ اس طرح کے لوگوں کی باتوں میں کبھی نہ آئیں، یہ لوگ آپ کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس موقع پر گرفتار خودکش بمبار خاتون کی والدہ نے کہا کہ خواتین کو دہشت گرد اپنے مقاصد کے استعمال کرتے ہیں، دہشت گرد ہماری مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، بیٹی کے لاپتا ہونے کے بعد ایک ایک دن کرب اور مصیبت میں گزارا۔

گرفتار دہشت گرد خاتون کے والد نے کہاکہ انہوں نے اپنی تنخواہ سے گھر چلایا اور بچوں کو بھی پڑھایا، ان کی بیٹی کامیاب ہوئی اور اس کو روزگار مل گیا، یہ لوگ صرف اپنے مفاد کیلیے پہاڑوں پر لے جاتے ہیں،میری بیٹی نے مجھے کہا تھا ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں۔اس موقع پر رکن بلوچستان اسمبلی فرح عظیم شاہ نے کہا کہ ریاست نے کھلے دل کے ساتھ عدیلہ بلوچ اور ان کے اہلخانہ کو قبول کیا ہے، وہ بلوچوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ اس لڑائی کو بند کیا جائے، اس میں نقصان صرف بلوچستان اور اس کی معصوم عوام کا ہے۔

فرح عظیم شاہ نے کہاکہ حقوق کی بات کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن جہاں پر پاکستان کے آئین اور ریڈ لائن کی بات آئے گی وہاں ریاست کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، جن کے بچے پہاڑوں پر ہیں ان کے والدین ہم سے رابطہ کریں، ریاست سے اگر شکایات ہیں تو ہم ان کا ازالہ کرنے کو تیار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…