جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پی ٹی آئی نے ہمارے نام سے جعلی انتخابی ٹکٹ جاری کیے’اختر اقبال ڈار

datetime 13  جنوری‬‮  2024 |

لاہور( این این آئی)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف ( نظریاتی )اختر اقبال ڈار نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو ہم نے ٹکٹ جاری نہیں کیے، انہوں نے ہمارے جعلی ٹکٹ جمع کرائے،پی ٹی آئی امیدواروں نے پی ٹی آئی نظریاتی کی ٹکٹیں کہاں سے لیں؟،اپنے امیدواروں کو میں نے خود ٹکٹ جاری کئے، 2018 میں جو ٹکٹ جاری کیے تھے وہی اس دفعہ جاری کیے ہیں، الیکشن کمیشن جعلسازی کرنے والوں کو پکڑے ۔ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں تھا ، شفافیت کی بات کرتے ہیں لیکن وہاں یدھونس دھاندلی اور پیسے کی سیاست تھی ،چندسالوں میں محسوس کرلیا شفافیت،سچائی نام کی چیزان میں نہیں،دھونس دھاندلی،غنڈہ گردی کوختم کرنے کے لئے پی ٹی آئی نظریاتی بنائی۔ انہوں نے کہا کہ میرے ٹکٹ پر واضح طور پر بلے باز کا نشان موجود ہے، سمجھ سے باہر ہے پی ٹی آئی نے کہاں سے ٹکٹیں ڈرافٹ کرائیں۔

الیکشن کمیشن نے آرڈر دے دیا ہے کہ کوئی کسی اور پارٹی کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کر سکتا، ہمارا اپنا منشور،اپنا آئین ہے، ہمارا نعرہ کرپشن کی سزا موت ہے، سزا اور جزا کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، اللہ نے اس لیے ہی سزا اور جزا رکھی ہے کہ سب ٹھیک ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ تمام پارٹیاں اپنے اپنے وعدے لے کر عوام میں جا رہی ہیں اس کے باوجود ملک پیچھے کیوں جا رہا ہے، ہر بندہ ملک سے ہجرت کرنا چاہتا ہے، ملک چھوڑنے کی بجائے ووٹ کے ذریعے ان کا احتساب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا، اٹھایا نہیں، نہ ہی مجھ پر کوئی دبا ئوہے، ہم نے کئی شہروں سے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں، میری جماعت کے 50 امیدوار ہیں۔چند برسوں میں محسوس کیا کہ شفافیت اور سچائی پی ٹی آئی میں نہیں، صحیح سمت جانے والوں کیلئے پی ٹی آئی نظریاتی بنائی، اقتدار میں آنے والے تینوں پارٹیاں مل کر پاکستان کو لوٹ رہی ہیں۔

اختر اقبال ڈار نے کہا کہ میرا تحریک انصاف کے کسی بندے سے کوئی رابطہ نہیں، ہم آر اوز کو پی ٹی آئی نظریاتی کے امیدواروں کی فہرست دیں گے۔پارٹی ٹکٹ سے متعلق ہمارا کسی جماعت سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا لہٰذاالیکشن کمیشن کا کام ہے کہ جنہوں نے جعلسازی کی ان کو پکڑے۔ اختراقبال ڈار نے کہا کہ آج الیکشن کا دور دورا ہے،تمام سیاسی جماعتیں اپنے منشور،وعدے،دعوے لے کر عوام کے پاس جارہی ہیں،عوام کے وسائل کولوٹتے ہوئے ان کومسائل میں دھکیلنے کی نئی صف بندی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…