جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جنرل (ر)فیض نے مجھے جیل بھیجا وہ آرمی چیف بننا چاہتا تھا، علیم خان

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

ٹیکسلا(این این آئی)استحکام پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان نے کہا ہے کہ جنرل (ر)فیض حمید نے مجھے جیل بھیجا وہ آرمی چیف بننا چاہتا تھا، عمران خان جو کہتے تھے سب کو رلائوں گا آج خود جیل میں بیٹھے رو رہے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی)علیم خان نے کہا کہ ہم سب ایک جماعت میں 2011 میں شامل ہوئے، جہانگیر ترین علاج کے بعد گھر نہیں گئے سیدھا اسلام آباد دھرنے میں پہنچے، ہم نے نئے پاکستان کے لیے بھرپور کوشش کی اور جو ممکن تھا ہم نے کیا ایک فیصد کمی نہیں چھوڑی، کوشش کی کہ یہ ملک خوشحال ملک بن جائے۔

اعلیم خان نے کہا کہ عمران خان کو جب موقع ملا اس نے ہمارے خلاف کارروائی ضرور کی، عامر کیانی کے پیچھے نیب کو لگا دیا، جہانگیر خان کی خواتین کے خلاف پرچے کرادئیے، ہم نے کبھی اپنی ماں بہن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیجا، ہم مردانگی کے ساتھ سیاست کرتے ہیں لیکن انہوں ںے میری بیٹی پر دو پرچے کٹوائے، کوئی اتنا گھٹیا بھی ہوسکتا ہے؟انہوںنے کہاکہ ہمیں سکھاتا تھا مدینہ کی ریاست اور حال یہ تھا کہ گھر میں تجوری میں پیسے آرہے تھے، تجوری گھر والی کے پاس تھی، فرح گوگی، بزدار پیسے بھیج رہے تھے کوئی ایسا گھر جس میں پیسے آرہے ہیں آپ کو پتا ہی نہ ہو؟

گھر میں تجوری بھری جارہی تھی، آپ نہیں بولے کیوں کہ آپ اس کرپشن میں شامل تھے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید نے مجھے جیل کے اندر کرایا کیونکہ وہ آرمی چیف بننا چاہ رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ جو اللہ کا نظام ہے وہ ہوتا ہے، عمران خان جو کہتا تھا رلائوں گا سب کو، آج بیٹھے رو رہے ہیں اور جیل سے مطالبہ کررہے ہیں دیسی مرغی دے دو، آپ جیل میں ہیں جہاں آپ لوگوں کو بھیجتے تھے اب اگر رو رہے ہیں تو یہ اللہ کا نظام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…