جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایف بی آر کی ماہانہ 50 ہزار تک آمدن پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تردید

datetime 26  اکتوبر‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے ماہانہ 50 ہزار روپے تک کمانے والوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تردید کر دی۔چھوٹے ملازمین اور کم آمدن والے کاروباری افراد کیلئے اچھی خبر سامنے آگئی ، ایف بی آر نے ماہانہ 50 ہزار روپے تک کمانے والوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تردید کر دی۔

رپورٹ کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک کمانے والے پر انکم ٹیکس لگانے کی چہ میگوئیوں کا خاتمہ ہوگیا، ایف بی آر نے چھوٹے طبقے سے ٹیکس چھوٹ واپس لینے کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ایف بی آر کے وضاحتی بیان میں کہا گیا ماہانہ 50 ہزار روپے آمدن والوں سے ٹیکس استثنی واپس لینے سے متعلق کوئی پالیسی یا تجویز زیرغور نہیں اور عالمی بینک نے بھی ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ایف بی آر نے زرعی ٹیکس لگانے یا نہ لگانے پر اپنا موقف بھی کھول کر بیان کر دیا ، حکام کا کہنا ہے زراعت سے آمدن پر ٹیکس کا نفاذ صوبائی معاملہ ہے لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ صوبے زرعی آمدن پر جائز ٹیکس وصول نہیں کر پا رہے۔

ٹیکس ریٹرنز کے حوالے سے بتایا گیا کہ فائلرز کی تعداد بڑھ کر انچاس لاکھ ہو چکی مگر یہ مقررہ ہدف سے کہیں کم ہے۔ایف بی آر کے مطابق ملک میں 65 فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے جن میں پچاس فیصد خواتین ہیں ، 30 سے 40 فیصد آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے ، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بمشکل دس فیصد ہے۔حکام کے مطابق مزید ڈیڑھ کروڑ تک افراد ٹیکس ادا کریں تو ہی ٹیکس گیپ ختم کیا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…