جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

خصوصی عدالت نے عمران خان کی بیٹوں سے فون پر بات کرانے کی اجازت دیدی

datetime 18  اکتوبر‬‮  2023 |

اسلام آباد(این این آئی)آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج نے عمران خان کی بیٹوں سے فون پر بات کرانے کی اجازت دے دی۔بدھ کو اسلام آباد کی آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروانے کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں عمران خان کے وکیل شیراز رانجھا عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت جج نے کہا کہ ابھی تک اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے ایس او پیز نہیں آئے، جیل میں ٹیلیفونک گفتگوکے حوالے سے ایس او پیز آجائیں تو دیکھ لیتے ہیں۔

اس دوران وکیل شیراز رانجھا نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں ورزش کیلئے سائیکل مہیا کرنا چاہتے ہیں، اس پر جج نے کہا کہ سائیکل کے حوالے سے تو میں پہلے ہی جیل حکام کو کہہ چکا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ سائیکل کا غلط استعمال نہ ہو، ایسا نہ ہوکہ سائیکل جیل سپرنٹنڈنٹ چلاتا رہے، میں سائیکل والے معاملے پر آرڈر کردیتا ہوں، معاملے کو حل کردیتے ہیں۔عدالت نے کیس میں مختصر وقفے کے بعد سماعت پھر شروع کی تو جج ابو الحسنات نے کہاکہ ایس او پیز آگئے ہیں جن کے مطابق ملزم کو بات کرنے کی اجازت نہیں، میں پھربھی جیل مینوئل کے مطابق ٹیلیفونک گفتگوکے معاملے کو دیکھ لیتا ہوں تاہم مجھے جیل مینوئل میں بیرونِ ملک بات کرنے کی اجازت تحریری طور پر دکھا دیں، میں آپ کے حق میں کہہ رہا ہوں، میں ٹیلیفونک گفتگو کی اجازت دے دیتا ہوں۔عدالت نے فیصلہ سنایا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت جاری کرتاہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے، سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…