جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بابوسر پاس غیر متوقع برف باری کے بعد ٹریفک کیلئے بند

datetime 15  اکتوبر‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)حکام نے بتایا ہے کہ برف باری کے پیش نظر بابوسر پاس کو معمول سے پہلے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔دیامر کے ڈپٹی کمشنر عارف احمد نے بتایا کہ اِس راستے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور موسم بہتر ہونے اور برف صاف ہونے پر ہی دوبارہ کھولا جا سکتا ہے،یہ راستہ عام طور پر نومبر سے جون تک 8 ماہ کے لیے گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند رہتا ہے کیونکہ درجہ حرارت صفر سے نیچے ہو جاتا ہے اور ٹریفک کو شاہراہ قراقرم کی جانب موڑ دیا جاتا ہے۔

ڈپٹی کمشنر عارف احمد نے کہا کہ یہ موسم پر منحصر ہے، یہ راستہ عام طور پر نومبر میں شدید برف باری کے بعد بند ہو جاتا ہے یا جب ٹھنڈ بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔بابوسر پاس کی بندش حالیہ برفباری کے بعد سیاحوں سمیت درجنوں مسافروں کے اِس علاقے میں پھنس جانے کے بعد ہوئی ہے۔پھنسے ہوئے سیاحوں کو ریسکیو کر کے گلگت بلتستان کے دیامر ڈویژن میں چلاس شہر منتقل کر دیا گیا۔بابوسر ٹاپ کا درجہ حرارت عام طور پر رات کے وقت منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے چلا جاتا ہے اور سخت سردیوں میں پولیس کا گشت مشکل ہو جاتا ہے۔

اس راستے کی طویل بندش کا سبب بننے والی دیگر وجوہات میں بابوسر ٹاپ سے ناران تک خیبرپختونخوا کی جانب سے سیکیورٹی کی عدم دستیابی اور پھسلن والی سڑکیں ہیں۔دیامر سے مانسہرہ کا سفر بابوسر پاس سے 7 گھنٹے میں طے ہوتا ہے، قراقرم ہائی وے کے ذریعے اتنا ہی فاصلہ طے کرنے میں 14 گھنٹے لگتے ہیں۔گلگت بلتستان آنے والے سیاح موسم اور دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے بابوسر پاس سے سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…