بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سیاستدان اور جرنیل زور لگا رہے ہیں ملک مشکلات سے نہیں نکل رہا، مولانا فضل الرحمان

datetime 30  ستمبر‬‮  2023 |

فیصل آباد(این این آئی) جمعیت علما اسلام (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ بنانے والا آیا اور ملکی معیشت 47 ویں نمبر پر چلی گئی، اب سیاستدان اور جرنیل بھی زور لگا رہے ہیں لیکن ملک مشکلات سے نہیں نکل رہا۔ناموس رسالت ۖکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیرت اور صورت کے حساب سے حضرت محمد ۖجیسا کوئی دوسرا پیدا نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پرحاصل کیے گئے ملک میں ناحق خون بہہ رہا ہے، انسانیت کو آج امن چاہیے، مستونگ میں میلاد النبیۖ کے جلوس پر دھماکے کرنے والے دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ دہشتگرد کی دہشتگردی کا مقصد عالمی سطح پرپاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے، امریکا نے اپنا اسلحہ بیچنے کیلئے جنگ مسلط کرکے ہمیں اپنی منڈی بنایا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018 میں ملک کی مجموعی ترقی کی شرح 6 فیصد تھی لیکن ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والوں نے اسے منفی صفر کردیا اور اس ماحول میں بندوق اٹھانا، حملے کرنا، نمازیوں پر حملہ کرکے دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہاں سرمایہ کاری نہ کرو یہاں حالات ٹھیک نہیں ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ نے ٹائیگرز کے ذریعے دفاعی اداروں پر حملہ کیا، فتنہ فتنہ ہے کبھی کہتا کہ امریکا نے سازش کی، کبھی کہتا ہے کہ نہیں کی، ایک پیسے کی سرمایہ کاری نہیں کہ جو ہوئی تھی اس کو بھی ڈوبا دیا، اب سیاستدان اور جرنیل بھی زور لگا رہے ہیں لیکن ملک مشکلات سے نہیں نکل رہا، اب چین اور سعودی عرب بھی کہتے ہیں کہ اگر یہ دوبارہ آگیا تو ہمارے پیسے ڈوب جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…