بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان بار کا چیف جسٹس عمر عطابندیال کے اعزاز میں عشائیے کے بائیکاٹ کا اعلان

datetime 14  ستمبر‬‮  2023 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان بار کونسل نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کے اعزاز میں عشائیے کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید نے چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے نام نوٹ میں کہا ہے کہ پاکستان بار چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے عشائیے میں احتجاجاً شرکت نہیں کریگی۔پاکستان بار کونسل کے اعلامیے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال فل کورٹ ریفرنس نہیں لے رہے، پاکستان بار احتجاجاً ججز کے چیف جسٹس کے اعزاز میں عشائیے میں شرکت نہیں کریگی۔

اعلامیے میں کہا گیاکہ پاکستان بار چیف جسٹس کے ریفرنس میں عدالتی خامیوں اور خوبیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل نے چیف جسٹس کاالوداعی ریفرنس نہ ہونے پر اپنا خطاب بھی جاری کردیا۔وائس چیئرمین پاکستان بار ہارون رشید کے خطاب میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور پر تنقیدکی گئی ہے۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان بار کونسل وکلا کی ریگولیٹری باڈی ہے، وکلا کے تحفظات گوش گزار کر رہا ہوں جو ممکن ہے جناب کی طبع پر گراں گزریں، عدالت عظمیٰ میں 60ہزار مقدمات زیر التوا ہیں،زیر التوا مقدمات کے مقرر اور نمٹانے کا کوئی شفاف طریقہ کار نہیں بنایا گیا۔ ہارون الرشید نے کہاکہ چیف جسٹس نے پاکستان بار کی بار بار درخواست پر کبھی ملاقات نہیں کی، چیف جسٹس کا یہی جواب آیاکہ سپریم کورٹ بار سے رابطے میں ہیں تو ملاقات کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہاکہ ایسامقدمہ مقرر کرنے کی درخواست نہیں کریں گے جس میں اپنا مفاد پوشیدہ ہو،کسی بھی مقدمے کے آغاز میں ایسے ریمارکس نہ دیں کہ پہلے ہی نتیجہ معلوم ہوجائے،سپریم کورٹ میں سرکاری افسران کو رجسٹرار مقرر کرکے آئینی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، عدالتی نظام سے ناآشنا سرکاری افسران کو رجسٹرار مقرر کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…