منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد،وزارتیں، ڈویژنز اور سرکاری ادارے بجلی بلوں کی مد میں کروڑوں کے نادہندہ نکلے

datetime 14  ستمبر‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد میں مختلف وزارتیں، ڈویژنز اور سرکاری ادارے بجلی بلوں کی مد میں کروڑوں روپے کے نادہندہ نکلے۔اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)نے بجلی بقایا جات کے نادہندہ حکومتی اداروں کی تفصیلات جاری کردیں۔دستاویز کے مطابق وزارتو ں، وفاقی وصوبائی اداروں کے ذمے 71 ارب 51 کروڑ 90لاکھ روپیکے بقایا جات ہیں، دفاعی اداروں کے ذمے 3 ارب 14 کروڑ روپے اور آزادکشمیر حکومت کے ذمے بجلی بلوں کی مد میں 60 ارب 70 کروڑ 60 لاکھ روپے کے بقایاجات ہیں۔

دستاویز میں بتایا گیا کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کے ذمے 6 کروڑ 20 لاکھ روپے، چیئرمین سینیٹ 7 کروڑ 10 لاکھ روپے، چیف جسٹس کے ذمے 70 لاکھ روپے اور پارلیمنٹ لاجز کے 11 کروڑ 90 لاکھ روپے کے واجبات ہیں۔دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت کے زیر انتظام اسپتال 37 کروڑ 10 لاکھ روپے کے نادہندہ ہیں جبکہ سی ڈی اے کے ذمے بجلی بلوں کی مد میں 3 ارب 8 کروڑ 10 لاکھ روپے اور اسلام ہائی کورٹ کے ذمہ بجلی بلوں کی مد میں ایک کروڑ روپے کے بقایاجات ہیں۔

دستاویز میں بتایا گیا کہ اے جی پی آفس کے ذمے بجلی بلوں کی مد میں 50 لاکھ روپے، وفاقی محتسب 30 لاکھ اور الیکشن کمیشن کے ذمہ 50 لاکھ روپیکے بقایاجات ہیں، اس کے علاوہ وفاقی پولیس 17 کروڑ، ایف آئی اے 2 کروڑ 70 لاکھ روپے، ایف بی آر 3کروڑ 70 لاکھ روپے اور وزارت داخلہ 11 کروڑ 20 لاکھ روپے کے نادہندہ ہیں۔

دستاویز میں کہا گیا کہ وزات صحت کے ذمے 5 کروڑ 90 لاکھ روپے، وزارت وفاقی تعلیم کے ذمے 5 کروڑ 20 لاکھ روپے، محکمہ ریلوے کے ذمے بجلی بلوں کی مد میں 15 کروڑ 70 لاکھ روپے، وزارت بجلی کے ذمے بجلی بلوں کی مد میں 30 لاکھ روپے کے بقایا جات ہیں۔دستاویز کے مطابق وزارت کھیل وثقافت 6 کروڑ 70 لاکھ، چیف کمشنر اسلام آباد 7 کروڑ 60 لاکھ، پاکستان آرڈیننس فیکٹری 13 کروڑ 30 لاکھ، نیب ایک کروڑ 30 لاکھ روپے، پنجاب پولیس ساڑھے 4 کروڑ روپے اور محکمہ واسا کے ذمے بلوں کی مد میں 16 کروڑ 60 لاکھ روپے کے بقایاجات ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…