منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

datetime 1  جون‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)ملک میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح38فیصد تک پہنچ گئی، مئی میں مہنگائی تخمینے سے تقریبا 4 فیصد زائد رہی، تعلیم، صحت، بجلی، گیس اور ایندھن سمیت ہر چیز مہنگی ہوگئی۔پاکستان میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح 38 فیصد تک پہنچ گئی، وزارت خزانہ نے مئی میں مہنگائی کا تخمینہ 34 سے 36 فیصد لگایا تھا تاہم مہنگائی میں اضافہ سے بھی زیادہ رہا۔

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق شہری علاقوں میں مہنگائی 35.1 فیصد کی سطح پر ریکارڈ کی گئی جبکہ دیہی علاقوں میں مہنگائی 42.2 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری مہنگائی کے اعداد و شمار کے مطابق قومی سطح پر ایک سال میں کھانے پینے کی اشیا 48.65 فیصد جبکہ ٹرانسپورٹ کرائے 53 فیصد مہنگے ہوگئے۔

ایف بی ایس کے مطابق تفریحی سہولیات گزشتہ سال کی نسبت 72 فیصد مہنگی ہوئیں جبکہ ریسٹورنٹ اور ہوٹل چارجز میں بھی 42 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت تعلیم ساڑھے 8 فیصد، صحت سہولیات 19 فیصد سے زیادہ مہنگی ہوئیں اور بجلی، گیس و ایندھن گزشتہ سال سے 20.51 فیصد مہنگے ہوگئے، کپڑے اور جوتے بھی 22.47 فیصد مہنگے ہوئے۔رپورٹ میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں کا ماہانہ موازنہ بھی پیش کیا گیا ہے،

جس کے مطابق گزشتہ ماہ آلو 17.22 فیصد، چکن کی قیمت میں 11.31 فیصد اضافہ ہوا، ایک ماہ میں گندم 6.4 فیصد، ریڈی میڈ کپڑے 5.68 فیصد مہنگے ہوئے، دالیں، مصالحہ جات، دودھ اور سگریٹس کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مئی میں پیاز، ٹماٹر، سبزیوں، پھلوں کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، گزشتہ ماہ چینی 2.77 فیصد، گندم 2.29 فیصد سستی ہوئی، مئی میں اخبار 32.77 فیصد، رہائش 23 فیصد، اسٹیشنری 5.44 فیصد مہنگی ہوئیں جبکہ گزشتہ ماہ کتابیں 5.15 فیصد اور بجلی ٹیرف 2.92 فیصد مہنگا ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…