پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد میں اہم شخصیات کو پلاٹس کی الاٹمنٹ، رپورٹ پی اے سی میں پیش

datetime 7  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد ( آن لائن ) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اہم شخصیات کو پلاٹس کی الاٹمنٹ سے متعلق رپورٹ پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کردی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں صدر،وزیراعظم،اعلی فوجی افسران اور وزراء و اراکین پارلیمنٹ کو کوئی پلاٹ الاٹ نہیں کیا گیا جبکہ حاضر سروس و ریٹائر سرکاری افسران و ملازمین کو 29 ہزار سے زائد پلاٹس دئیے گئے ۔

ججز کو ملنے والے پلاٹس کی تفصیلات کا رپورٹ میں ذکر نہیں ہے۔ سی ڈی اے کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو دئیے جانے والے ریکارڈ کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے مختلف سیکٹرز اور ہائوسنگ منصوبوں میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے ذریعے ریٹائرڈ اور سرکاری ملازمین کو مجموعی طور پر 29ہزار 531پلاٹس بذریعہ قرعہ اندازی دئیے گئے ہیں ریکارڈ کے مطابق گریڈ 20سے گریڈ 22تک کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس سرکاری افسران کو اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز اور رہائشی منصوبوں میں 4968 گریڈ 18اور 19کے افسران کو 6ہزار 776پلاٹس گریڈ 16اور گریڈ 17کے افسران کو 6ہزار 650 پلاٹس،گریڈ 10سے گریڈ15تک کے سرکاری ملازمین کو مجموعی طور پر 3575 پلاٹس جبکہ گریڈ 1 سے گریڈ 9 تک کے سرکاری ملازمین کو 6 ہزار 862 پلاٹس بذریعہ قرعہ اندازی دئیے گئے ہیں ریکارڈ کے مطابق یہ پلاٹس آئی ایٹ،جی ایلیون،ڈی 12 ،ای 12 ، جی 13 ،جی 14 / 4 ،جی 14 / 1 , 2 , 3 ،گرین انکلیو ون،گرین انکلیو ٹو،ایف 14 ،ایف 15 ،پارک روڈ منصوبے میں ریٹائرڈ اور سرکاری ملازمین کو دئیے گئے ہیں۔دستاویزات میں بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں صدر،وزیراعطم ،وفاقی وزراء ،اعلی فوجی افسران اور اراکین پارلیمنٹ کو کوئی پلاٹ الاٹ نہیں کیا گیا جبکہ ججز کو ملنے والے پلاٹس کی تفصیل موجود نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…