ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

پاکستان تحریک انصاف نے مولانا طارق جمیل کو حکمران اتحاد کیخلاف میدان میں اتار دیا

datetime 25  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف نے طارق جمیل کو مذہبی کے بعد اب سیاسی میدان میں حکمران اتحاد کے خلاف میدان میں اتار دیا ہے وہ حالیہ برسوں میں عمران خان اور تحریک انصاف کی حمایت کررہے تھے اب انہوں نے کھل کر پی ڈی ایم پر حملے شروع کردیئے ہیں ۔

جنگ اخبار میں صالح ظافر کی خبر کے مطابق ایک انٹرویو میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ستر سال میں کسی حکومت نے اپنے مخالفین کو دبانے اور فسطائیت کا ایسا مظاہرہ نہیں کیا جو موجودہ حکومت اپنے مخالفین کے ساتھ کررہی ہے طارق جمیل جنہوں نے اپنے متعدد کاروبار اور منفعت بخش منصوبے عمران حکومت کے دور میں شروع کئے اور کروڑوں بلکہ اربوں منافع کمایا دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے عمران میں خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا جنہوں نے مسلمانوں کو لاالہ اللہ کا مفہوم کسی عالم دین سے بڑھ کر سمجھایا اور وہ ریاست مدینہ کا نام لیوا ہے۔ طارق جمیل کے بارے میں ان خیالات کااظہار سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز پر لگاتار کیا جارہا ہے جس میں انہیں تحریک انصاف کی حمایت پر از حد معیوب لفظوں میں یاد کیا جارہا ہے سوشل میڈیا میں کہا جارہا ہےکہ عمران حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے ایسی عورت سے شادی کی جس نے اپنی عدت کی مدت بھی پوری نہیں کی تھی اور اس کا علم نہ صر ف انہیں خود تھا بلکہ ان کی بننے والی شریک حیات کو بھی تھا اس کے باوجود ان کا نکاح ہوا اور وہ کئی ہفتوں تک میاں بیوی کے طور پرایک ساتھ رہنے کے بعد دوبارہ نکاح پر مجبور ہوئے کیا یہ خیر تھا۔

سوشل میڈیا میں سوال کیا گیا کہ ٹیریان کی پیدائش اور اسے اپنی بیٹی تسلیم کرنے میں تامل کیا خیر ہونے کی نشانی ہے۔ ایک صارف نے یاد دلایا کہ اپنے بچوں کو یہودی بودوباش میں پروان چڑھنے کے لئے چھوڑ دینا کیا یہ ریاست مدینہ کی تعلیم کا حصہ ہے اور اسے کیونکر خیر قرار دیا جاسکے گا طارق جمیل سے دریافت کیا گیا کہ پاکستان کی معیشت کو غرقاب کردینا کہاں کی خیر ہے اپنے مخالفین اور ان کی بہو بیٹیوں کو بلا تقصیر جیلوں میں ٹھونس دینا کس طرح خیر کہلا سکتا ہے۔

جمعیت العلمائے اسلام کے رہنما اور مولانا فضل الرحمٰن کے ترجمان اسلم غوری نے استفسار پر کہا کہ طارق جمیل کو نظرانداز کرنا ہی موزوں ہوگا ۔ اسلم غوری نے یاد دلایا کہ تبلیغی جماعت کے حاجی مولانا عبدالوہاب نے طارق جمیل کو پہچان لیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی اصلیت کو سمجھتے ہوئے حاجی عبدالوہاب نے انہیں تبلیغی مرکز سے نکال دیا تھا اور انہیں تبلیغی مرکز کے اسٹیج کواستعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ ایک ٹویٹر صارف نے تحریر کیا ہےکہ عمران میں شرکے سوا کچھ نہیں دیکھا جس طرح اس نے اسلامی شعائرکا مذاق اڑایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…