بدھ‬‮ ، 08 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان تحریک انصاف نے مولانا طارق جمیل کو حکمران اتحاد کیخلاف میدان میں اتار دیا

datetime 25  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف نے طارق جمیل کو مذہبی کے بعد اب سیاسی میدان میں حکمران اتحاد کے خلاف میدان میں اتار دیا ہے وہ حالیہ برسوں میں عمران خان اور تحریک انصاف کی حمایت کررہے تھے اب انہوں نے کھل کر پی ڈی ایم پر حملے شروع کردیئے ہیں ۔

جنگ اخبار میں صالح ظافر کی خبر کے مطابق ایک انٹرویو میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ستر سال میں کسی حکومت نے اپنے مخالفین کو دبانے اور فسطائیت کا ایسا مظاہرہ نہیں کیا جو موجودہ حکومت اپنے مخالفین کے ساتھ کررہی ہے طارق جمیل جنہوں نے اپنے متعدد کاروبار اور منفعت بخش منصوبے عمران حکومت کے دور میں شروع کئے اور کروڑوں بلکہ اربوں منافع کمایا دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے عمران میں خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا جنہوں نے مسلمانوں کو لاالہ اللہ کا مفہوم کسی عالم دین سے بڑھ کر سمجھایا اور وہ ریاست مدینہ کا نام لیوا ہے۔ طارق جمیل کے بارے میں ان خیالات کااظہار سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز پر لگاتار کیا جارہا ہے جس میں انہیں تحریک انصاف کی حمایت پر از حد معیوب لفظوں میں یاد کیا جارہا ہے سوشل میڈیا میں کہا جارہا ہےکہ عمران حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے ایسی عورت سے شادی کی جس نے اپنی عدت کی مدت بھی پوری نہیں کی تھی اور اس کا علم نہ صر ف انہیں خود تھا بلکہ ان کی بننے والی شریک حیات کو بھی تھا اس کے باوجود ان کا نکاح ہوا اور وہ کئی ہفتوں تک میاں بیوی کے طور پرایک ساتھ رہنے کے بعد دوبارہ نکاح پر مجبور ہوئے کیا یہ خیر تھا۔

سوشل میڈیا میں سوال کیا گیا کہ ٹیریان کی پیدائش اور اسے اپنی بیٹی تسلیم کرنے میں تامل کیا خیر ہونے کی نشانی ہے۔ ایک صارف نے یاد دلایا کہ اپنے بچوں کو یہودی بودوباش میں پروان چڑھنے کے لئے چھوڑ دینا کیا یہ ریاست مدینہ کی تعلیم کا حصہ ہے اور اسے کیونکر خیر قرار دیا جاسکے گا طارق جمیل سے دریافت کیا گیا کہ پاکستان کی معیشت کو غرقاب کردینا کہاں کی خیر ہے اپنے مخالفین اور ان کی بہو بیٹیوں کو بلا تقصیر جیلوں میں ٹھونس دینا کس طرح خیر کہلا سکتا ہے۔

جمعیت العلمائے اسلام کے رہنما اور مولانا فضل الرحمٰن کے ترجمان اسلم غوری نے استفسار پر کہا کہ طارق جمیل کو نظرانداز کرنا ہی موزوں ہوگا ۔ اسلم غوری نے یاد دلایا کہ تبلیغی جماعت کے حاجی مولانا عبدالوہاب نے طارق جمیل کو پہچان لیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی اصلیت کو سمجھتے ہوئے حاجی عبدالوہاب نے انہیں تبلیغی مرکز سے نکال دیا تھا اور انہیں تبلیغی مرکز کے اسٹیج کواستعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ ایک ٹویٹر صارف نے تحریر کیا ہےکہ عمران میں شرکے سوا کچھ نہیں دیکھا جس طرح اس نے اسلامی شعائرکا مذاق اڑایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…