جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

بلدیاتی اداروں سے متعلق سپریم کورٹ احکامات پر عمل درآمد سے متعلق درخواست

datetime 22  مارچ‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی)سندھ ہائی کورٹ میں بلدیاتی اداروں سے متعلق سپریم کورٹ احکامات پر عمل درآمد سے متعلق ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی کی درخواست پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب جمع کرانے کے لیے ایک بار پھر مہلت مانگ لی۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت تک جواب جمع نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں کیس سن کر فیصلہ کردیا جائے گا۔

سندھ ہائیکورٹ میں بلدیاتی اداروں سے متعلق سپریم کورٹ احکامات پر عمل درآمد سے متعلق ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ طارق منصور ایڈوکیٹ و دیگر وکلا پیش ہوئے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب جمع کرانے کے لیے ایک بار پھر مہلت مانگ لی۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ سندھ حکومت نے بلدیاتی قوانین میں ترمیم کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے بار بار مہلت کے باوجود سندھ حکومت کی جانب سے جواب جمع نہیں کرایا جارہا۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے سرکاری وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ ہم آپ کی قدر کرتے ہیں مگر یہ مناسب رویہ نہیں ہے۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا کام ہے تحریری جواب جمع کرائیں تاکہ کیس چلایا جائے۔ ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے، جواب جمع نہیں کرایا جارہا۔ درخواستگزار کا حق ہے وہ اپنا کیس چلائیاور آپکا کام ہے جواب جمع کرائیں۔ یہ بڑا کیس ہے ایک دن میں فیصلہ ممکن نہیں ہے۔ آئندہ سماعت تک جواب جمع نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں کیس سن کر فیصلہ کردیا جائے گا۔ دائر درخواستوں میں موقف اپنایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔ہم یہاں سپریم کورٹ فیصلے پر عمل درآمد کے لیے آئے ہیں۔ سندھ حکومت کو سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں اصلاحات کا حکم دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…