ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور چوری کے واقعات بڑھنے کے پیش نظر شہریوں نے اپنی موٹر سائیکلوں میں پٹرول لاک لگوانے شروع کردیئے

datetime 20  جون‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور چوری کے واقعات بڑھنے کے پیش نظر شہریوں نے اپنی موٹر سائیکلوں میں پٹرول لاک لگوانے شروع کردیئے ہیںجبکہ اضافی پٹرول ڈلوانابھی محدودکردیاہے۔دوسری جانب شہری قریبی کاموں کیلیے موٹر سائیکل پر جانے کی بجائے پیدل ترجیح دے رہے ہیں۔موٹر سائیکل چلانے والے ایک شہری فہد صدیقی نے بتایا کہ

جب تک 150روپے لیٹر پٹرول تھا تو ہم باآسانی سفر کر لیتے تھے۔ اب اس قیمت میں جب مہنگائی عروج پر ہو اور پٹرول کی قیمت بہت بڑھ گئی ہو تو موٹر سائیکل استعمال کرنا مشکل ہو گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پہلے میں دو لیٹر پٹرول سارا دن استعمال کرتا تھا ،جو 300 روپے میں آجاتا تھا۔ اب یہی خرچہ بڑھ کر 470 پر چلا گیا ہے اور ماہانہ 5100 روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ میری تنخواہ میں سے 40 فیصد اخراجات ٹرانسپورٹیشن اور گاڑی کی مرمت پر خرچ ہو رہے ہیں ، جو 60 فیصد تنخواہ بچتی ہے اس میں سے میں 40 فیصد گھر پر دیتا ہوں اور 20 فیصد ذاتی استعمال پر خرچ کرتا ہوں۔ایک نوجوان اعجاز نے بتایا کہ میری تنخواہ 30 ہزار روپے ہے ، جس میں سے میں روز ایک لیٹر پٹرول 235کا ڈلواتا ہوں۔ ماہانہ 8 ہزار روپے ٹرانسپورٹیشن کی مد میں خرچ ہوتے ہیں۔ 22ہزار رروپے میں گھر کیسے چلائوں؟۔پرنٹنگ کے کاروبار سے منسلک سید عامر علی نے بتایا کہ مہنگا ہونے کے ساتھ موٹر سائیکل سوارو ں کو سب سے بڑا مسئلہ پٹرول چوری کا ہوتا ہے کیونکہ آئے روز ی یہ واقعات معمول کا حصہ ہیں کہ مختلف علاقوں میں فلیٹوں ، محلوں اور دیگر پارکنگ میں نامعلوم افراد موٹر سائیکل کا پٹرول چوری کر لیتے ہیں۔ایک پیٹرول پمپ پر کام کرنے والے سیلز مین طیب احمد نے بتایا کہ جب سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ، موٹر سائیکل سواروں کی بڑی تعداد نے پہلے کے مقابے میں اب اضافی پیٹرول ڈلوانا بند کر دیا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کو پٹرول کی فروخت میں ایک اندازے کے مطابق 20 سے 25 فیصد کمی ہوئی ہے۔موٹر سائیکل کے پارٹس فروخت کرنے والے ایک دکاندار نے بتایا کہ پٹرول مہنگا ہونے اور پٹرول چوری کے واقعات بڑھنے کی وجہ سے اب لوگ اپنی موٹر سائیکل میں پیٹرول لاک لگ وا رہے ہیں۔ ایک موٹر سائیکل مکینک سید لئیق علی نے بتایا کہ پیٹرول مہنگا ہونے کی وجہ سے اب موٹر سائیکل سوار بلا ضرورت بائیک چلانے سے گریز کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…