بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد کے فلیٹ میں بلیک میل کرنے کے کیس میں نیا موڑ لڑکے اور لڑکی نے عثمان مرزا کو پہچاننے سے ہی انکار کر دیا

datetime 11  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کے کیس میں اہم موڑ آگیا، متاثرہ لڑکی سدرہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئی اور کہا ہے کہ سارا معاملہ پولیس نے بنایا،کسی بھی ملزم کو نہیں جانتی،بیان حلفی عدالت میں جمع کرادیا۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج عطاء ربانی نے عثمان مرزا اور دیگر ملزمان کے خلاف تھانہ گولڑہ کے

علاقہ ای الیون میں نازیبا ویڈیو بنانے، تشدد اور بلیک میلنگ کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران متاثرہ لڑکی کے بیان پر جرح شروع کی گئی، جس کے دوران 16 جولائی کو جیل میں ملزمان کی شناخت سے متعلق متاثرہ لڑکی نے کہاکہ میں نے کوئی دستخط نہیں کیے، اس موقع پرمتاثرہ لڑکی کی جانب سے عدالت میں اشٹام پیپر دیدیا گیااور بیان دیا کہ پولیس نے یہ سارا معاملہ خود بنایا ہے۔ بیان حلفی کسی کے دباو میں آکر نہیں دیا، کسی بھی ملزم کو نہ شناخت کیا اور نہ ہی کسی پیپر پر دستخط کیے۔ پولیس والے مختلف اوقات میں سادہ کاغذوں پر میرے سے دستخط اور انگوٹھے لگواتے رہے۔ میں کسی بھی ملزم کو نہیں جانتی اور نہ کیس کی پیروی کرنا چاہتی ہوں۔ متاثرہ لڑکی نے کہاکہ میں نے کسی کو بھی تاوان کی رقم ادا نہیں کی، ملزم ریحان سمیت دیگر ملزمان کو مجھے تھانہ میں دکھایا گیا تھا،ریحان سمیت کسی بھی ملزم زیادتی کی کوشش نہیں کی،میں ریحان کو نہیں جانتی اور نہ ہی وہ ویڈیو بنا رہا تھا۔ استدعا ہے کہ اسکے بعد سر میں پیش نہیں ہونا چاہتی۔ جج عطا ربانی نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو پیش تو ہونا پڑیگا۔ بعد ازاڈ عدالت نے سماعت 18 جنوری تک کیلئے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…