ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سینیٹر شیری رحمان کا بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر تشویش کا اظہار

datetime 4  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امپورٹس 63 فیصد بڑھ کر 39.91 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، آگے روپے کی قدر میں مزید کمی ہوگی،اس پر احتساب کے

ادراے بھی خاموش رہے، معیشت پر ناکام تجربے اب بند ہونے چاہئے۔ اپنے بیان میں شیری رحمن نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت نے ناکامی کا ایک اور ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ کا تجارتی خسارہ 24.79 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایکسپورٹس میں 14کروڑ 20لاکھ ڈالر کمی ریکارڈ کی گئی۔ انہوںنے کہاکہ امپورٹس 63 فیصد بڑھ کر 39.91 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، آگے روپے کی قدر میں مزید کمی ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ صرف 6 ماہ میں ملک کے تجارتی خسارے میں 100فیصد اضافہ قابل تشویش ہے۔ انہوںنے کہاکہ گندم اور چینی ایکسپورٹ کر کے امپورٹ کی گئی۔ شیری رحمن نے کہاکہ اس پر احتساب کے ادراے بھی خاموش رہے، شیری رحمان نے کہاکہ ایک طرف تجارتی خسارے میں اضافہ ہو رہا ہے، دوسری طرف حکومت ایکسپورٹس بڑھنے کا دعوہ کر رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ معیشت پر ناکام تجربے اب بند ہونے چاہئے، شیری رحمان

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…