ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں پلاسٹک کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

مکوآنہ (این این آئی )ملک میں پاکستانی جعلی کرنسی کی روک تھام کے لئے پلاسٹک کرنسی لانے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے۔ پلاسٹک کرنسی کے لئے پچاس روپے ، سو روپے ،پانچ سو روپے اور ایک ہزار روپے کے جدید فیچرز کے نوٹ لائے جائیں گے۔ پشاور یونیورسٹی نے

پلاسٹک کرنسی کے ڈیزائن تیار کرلیے ہیں.ملک بھر میں جعلی پاکستان کرنسی میں بے تحاشا اضافہ ہوچکا ہے، ملک میں پاکستانی جعلی کرنسی کی توک تھام کے لئے پلاٹک کرنسی لانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ جعلی کرنسی کے خاتمے کے لئے نئے اور جدید پلاسٹک کرنسی لانے کا پلان ہے۔ سنیٹر سلیم مانڈی والا کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو کافی عرصے سے پلاسٹک کرنسی لانے کا کہا گیا ، اسٹیٹ بینک بھی پلاسٹک کرنسی لانے پر کافی عرصے تک کام کرتا رہا ہے لیکن اسٹیٹ بینک اس پر کوئی پلان نہیں لاسکا۔سلیم مانڈی والا کا کہنا تھا کہ پاکستانی جعلی کرنسی بے تحاشا ہوچکی ہے،جعلی کرنسی کے خاتمے کے لئے ایسی کرنسی لانا ہوگی جو جعلی بنانا ناممکن ہے، پلان کے تحت 50 روپے ،100 روپے ،500 روپے اور 1 ہزار روپے کے پلاسٹک نوٹ لانے کا پلان دیا گیا ہے۔ نئی پلاسٹک نوٹس کا ڈیزائن پشاور یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ فائن آرٹ نے تیار کئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…