ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں ہر پانچویں موت اس موذی مرض سے ہوتی ہے ، ماہرین کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 30  ستمبر‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی) ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان میں امراض قلب سے ہونے والی اموات کی شرح بیس فیصد ہے یعنی ملک میں انتقال کر جانے والا ہر پانچواں شخص دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث موت کا شکار ہورہاہے علاج سے بہتر بچاؤ ہے امراض قلب سے بچاؤ کیلیے طرز زندگی میں مثبت تبدیلیوں کی ضرورت ہے

یہ باتیں انہوں ڈاؤ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے زیراہتمام عالمی یوم امراض قلب کے سلسلے میں ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کے لیکچر ہال میں آگہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی،جس سے ان کے علاوہ پرو وائس چانسلر زپروفیسر زرناز واحد، پروفیسر نصرت شاہ،ڈاکٹر اختر علی بلوچ،ڈاکٹر زاہد اعظم، ڈاؤ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ ڈاکٹر طارق فرمان ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں ڈاکٹر عشرت العباد او ٹی کمپلیکس سے مین او پی ڈی تک آگہی واک منعقد کی گئی اس موقع پرڈائریکٹر او پی ڈی ڈاکٹر رستم زمان آئی بی ایس کے ڈائریکٹر بریگیڈئر شعیب احمد،فیکلٹی کے ارکان و طلبا و طالبات کی بڑی تعداد شریک تھی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہاکہ غذا اور ورزش پر توجہ دے کر ہم امراض قلب سے محفوظ رہ سکتے ہیں سرکاری سطح پر بھی علاج سے زیادہ بچاؤ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اس کیلیے مہم چلائی جائے اورامراض قلب سے محفوظ فضا اور ماحول بنایا جائے علاج مہنگااور بچاؤ سستاہے انہوں نے کہاکہ سگریٹ نوشی ترک کر کے ورزش کا وقت بڑھاکر زندگی بڑھائی جاسکتی ہے پروفیسر زرناز واحد نے کہاکہ زندگی بھر دل ہمارے ایک بہت مضبوط عضو کے طور پر اہم کردار ادا کرتا ہے ایک صحت مندزندگی کو کامیاب زندگی دل ہی بناتاہے اس لیے دل کی قدر کیجیے اور اس کا خیال چہل قدمی اور ورزش کے ذریعے رکھا جاسکتاہے۔ قبل ازیں اپنے افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر طارق فرمان نے کہاکہ دنیا میں سالانہ ایک کروڑ ستر لاکھ یعنی سترہ ملین افراد دل کی بیماریوں کا شکار بن کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں پاکستان میں یہ تعداد سالانہ ڈھائی لاکھ تک پہنچ جاتی ہے دل کے دورے کا بہت اہم سبب شریانوں کی بندش ہے ساری دنیا میں اسی بات پر زور دیا جارہاہے احتیاط علاج سے بہتر ہیزندگی عادات و اطوار میں تبدیلی لائی جائے تو شریانوں کی بندش کو روکا جاسکتاہے انہوں نے کہاکہ اگر ذیابیطس،بلڈ پریشرکے امراض کو قابو کیا جائے

سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو ترک کردی جائے، چہل قدمی اور ورزش کو معمول بنا لیا جائے اور صحت بخش غذائیں استعمال کی جائیں تو دل کی دیگر بیماریوں کے علاوہ شریانوں کی بندش سے بھی بچاؤ ممکن ہے انہوں نے کہا کہ علاج مہنگا تو ہے ہی مگر اکثر صورتوں میں بروقت دستیاب نہیں ہوتا اور تاخیر کی صورت میں جان چلی جاتی ہیبچ جائے تو زندگی بھر دواؤں کے سہارے جیناپڑتاہے انہوں نے کہاکہ ڈاؤ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں امراض قلب کے علاج کی تمام سہولتیں موجود ہیں

اور خاص طور پر شہر کے وسطی،شرقی اور ملیر کے لیے یہ ایک بہترین علاج کا مرکز ہے مگر ہم پھر بھی یہی مشورہ دیں گیاحتیاط کریں اور اپنے دل کو ڈاکٹر سے دور رکھیں۔سیمینار کے اختتام پر وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے پرو وائس چانسلر زپروفیسر زرناز واحد، پروفیسر نصرت شاہ،ڈاکٹر اختر علی بلوچ،ڈاکٹر زاہد اعظم، ڈاؤ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ ڈاکٹر طارق فرمان ڈائریکٹر او پی ڈی ڈاکٹر رستم زمان آئی بی ایس کے ڈائریکٹر بریگیڈئر شعیب احمد ودیگر کو شیلڈز دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…