ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاور پلانٹس 5 جولائی تک مکمل فعال ہوں گے، وزیر توانائی حماد اظہر نے خوشخبری سنا دی

datetime 2  جولائی  2021 |

اسلام آباد(آن لائن )وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ پیر 5 جولائی تک توانائی اور گیس کے شعبے میں تعطل پر قابو پالیا جائے گا اور پاور پلانٹس مکمل بحال ہوجائیں گے۔ اسلام آباد میں توانائی کی صورت حال سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ ہمیں آر ایل این جی ٹرمینل کی ڈرائی ڈاکنگ شروع کی اور دو دن

قبل ہی 40 فیصد گیس بحال ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف ہے کہ کل تک 70 فیصد آر ایل این جی بحال کریں گے اور آرایل این جی کا ایک اور پلانٹ بھی کل مکمل بحال ہو چکا ہے اور مزید گیس آئے گی تو دوسرے پلانٹس کو مکمل بحال کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ پیر تک مکمل بحالی ہوگی تو توانائی اور گیس دونوں شعبوں کے اندر بہتری آجائے گی اور دونوں شعبوں میں تین سے چار دن کی تعطیل آئی ہے، وہ بھی معمول پر آجائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تربیلا ڈیم 20 سے 25 فیصد پر چل رہا ہے کیونکہ 2 ہفتے قبل پانی میں کمی آئی تھی لیکن اب پانی کے بہاو میں اضافہ ہورہا ہے، اس کی وجہ سے بھی توانائی کے شعبے میں مسائل آئے تھے جن پر ہم نے قابو بھی پالیا ہے اور مزید قابو پا رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں شروع کے 4 سال 12،12 لوڈ شیڈنگ ہوئی لیکن اب ان 2 سے 3 دنوں میں بجلی کی بندش پر سیاست چمکانے کی کوشش کی اور ان کے اپنے دامن پر جو الزامات لگے ہوئے وہ کسی اور کے دامن پر لگانے کی کوشش کی، شاید ان کی جان چھوٹ جائے۔انہوں نے کہا کہ کچھ دیر پہلے ایک سابق وزیراعظم نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ سارا بحران شاید فرنس آئل پلانٹ چلانے کے لیے تھا لیکن ہم نے پلانٹ مقامی گیس سے چلائے جس کے لیے

سوئی سدرن گیس اور سوئی ناردرن سے منتقل کرکے یہ پلانٹ چلائے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ فرنس آئل کے پلانٹس ہر گرمیوں میں چلتے ہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت میں کم چلے ہیں جو تقریباً چوتھا حصہ تھا اور اس کو آہستہ آہستہ کم کر رہے ہیں۔حماد اظہر نے کہا کہ رواں سال بجلی کی مجموعی کھپت میں 6 سے 7 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا کیونکہ صنعت کی

طرف سے 15 فیصد طلب میں اضافہ ہوا اور پیک لوڈ میں بھی اضافہ نظر آرہا ہے، یہ کوئی بری چیز نہیں بلکہ اچھی چیز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 12 مہینوں میں ہماری کھپت اوسطاً 16 ہزار میگاواٹ ہوتی ہے اور ان ڈیڑھ مہینے میں تقریباً 25 ہزار میگاواٹ تک چلی جاتی ہے، ہماری ترسیل 24 ہزار میگاواٹ ہے لیکن ہم اس کو بڑھا رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے 4 ہزار میگاواٹ میں اضافہ کردیا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت پیک ڈیمانڈ ہے، اسے پہلے پاکستان میں اتنی ڈیمانڈ نہیں دیکھی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…