وہ وقت بھی قریب ہے جب اس دھرتی کا بیٹا نوازشریف انشا ء اللہ ہمارے درمیان ہوگا، دھماکہ خیز اعلان

  اتوار‬‮ 16 مئی‬‮‬‮ 2021  |  19:55

شیخوپورہ (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شیخوپورہ کے شیروں کیلئے محمد نوازشریف اور محمد شہباز شریف کا سلام لیکر آئی ہوں،میاں جاوید لطیف جیسے جمہوریت اور نوازشریف کے سپاہی کو سر جکا کر مریم نوازشریف سلام پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شیخوپورہ میں جاوید لطیف کی فیملی سے ملاقات کا فیصلہگزشتہ رات کیا اور کسی کو اطلاع نہیں دی تاہم جاوید لطیف کے شہر شیخوپورہ کے عوام کے جم غفیر کو پتہ چل گیا۔ انہوں نے کہاکہ جس نے آئین کی بات کی، جس نے پاکستان


کے قانون کی بات کی، جس نے حق کی بات کی اور غدار کہلایا یاد رکھو پھر پورا پاکستان غدار ہے۔مریم نواز نے کہاکہ جاوید لطیف کو غدار کا لقب دینا جا وید لطیف کو نہیں شیخوپورہ کے عوام کو غداری کا لقب دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ غداری غداری کھیلنا بہت سالوں سے سنتے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کس سے ڈر لگتا ہے؟ حق کی بات سے ڈر لگتا ہے، آئین اور قانون کی بات سے ڈر لگتا ہے، سچائی اور بہادری سے ڈر لگتا ہے تو کیا ہوتا ہے بیگ کھلتا ہے اس میں سے کبھی غداری کا لقب اور کبھی مذہب کا فتویٰ نکل آتا ہے، کبھی چور اور ڈاکو کا لقب نکل آتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شیخوپورہ کے لوگوں کا سر فخر سے بلند ہونا چاہیے کہنوازشریف کے شیر اور پاکستان اور شیخوپورہ کے بیٹے جاوید لطیف نے خطرہ مول لیکر حق اور سچ کی بات پر ڈٹے رہ کر نہ صرف نوازشریف، شیخوپورہ اور پاکستان کی مٹی ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بات یہ ہے کہ وقت بدل گیا ہے، اگر غدار ہونا جرم ہے تو جانتے ہیں سب سے پہلے غداری کا لقب محترمہ فاطمہ جناح کو بھی دیا تھا، غداری کا لقب نوازشریف کے حصے میں بھی آیا تھا اور غداری کا لقب مریم نواز کے حصے میں بھی آیا تھا اگر حق کو حق اور سچ کو سچ کہنا،آئین کیسر بلندی کی بات کر نا، اداروں کی سر بلندی کی بات کر نا، قانون کی پاسداری کر نا غداری ہے تو ہم یہ غداری بار بار کرینگے۔انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے غداری کے فتوے بانٹے کی فیکٹریز کھولی ہوئی ہیں ان کو خبر ہو کہ بائیس کروڑ عوام یہ جان چکے ہیں کہ جب تم ڈرتے ہو، جب تم ہار جاتے ہو،آئین کی سربلندی کی بات نہیں سن سکتے تو غداری کے سرٹیفکیٹ ملتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وقت بدل رہا ہے،لوگوں نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے، جو لوگ پہلے ڈر کر چپ کر جاتے تھے آج جاوید لطیف کی طرحآپ کو پتہ ہو حق اور سچ کہنے کی پاداش میں گرفتار کر لیا جائے تو پھر بھی حق اور سچ کا ساتھ دیں تو اس سے بڑی بہادری اور کوئی نہیں ہوسکتی۔مریم نواز نے کہاکہ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ جو کبھی غداری کے فتوے لوگوں کے گلوں میں لٹکایا کرتے تھے،پاکستان کے بائیس کروڑ عوام نے ان کو ہیرو بنا دیا، کون کہتا تھا نوازشریف غدار ہے؟، نوازشریف کے اوپر کونسان الزام نہیں لگایالیکن اللہ تعالیٰ کا کر نا دیکھو وہی نوازشریف آج لندن میں بیٹھا ہے لیکن پاکستان کے کونے کونے سے نوازشریف کےحق میں فیصلے آرہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ووٹ کو عزت دو کس کا بیانیہ ہے؟ جس کو آپ نے چور اور ڈاکو کہا، جس کو آپ نے غدار کہا، آپ نے مذہب کے فتوے لگائے آج اس کا بیانیہ اس کا پاکستان کے کونے کونے میں پھیل چکا ہے، ڈسکہ میں لوگوں نے نوازشریف کے بیانیہ پر لبیک کہا نہ صرف ووٹ کو عزت دی بلکہ رات بھر جاگ کر ووٹ کی حرمت پر پہرہ دیا اور چھینی ہوئی سیٹ ان سے واپس لی۔اس موقع پر انہوں نے کہاکہ عوام کے نعرے ٹی وی کے ذریعے عوام سنیں تاکہ عوام کو پتہ چلنا چاہیےاس دھرتی کے اصل غدار کون ہیں؟۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف نے بڑی بڑی سے قربانی دیکر 22کروڑ عوام کو بیدار کر دیا ہے، شکریہ نوازشریف۔ انہوں نے کہاکہ آج نہ صرف شیخوپورہ کے عوام بلکہ 22کروڑ عوام کو پتہ چل گیا ہے، ان کا حق کیا ہے، آئین اور قانو ن کیا ہے اور اس کے ماننے والے کون ہیں اور غدار کون ہیں؟۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف نے قوم کو سر اٹھا کر چلنا دکھا دیا ہے،عوام جانتے ہیں غدار کون ہے؟ ایک زمانہ تھا غدار جب کرسیاں پر بیٹھے ہوتے تھے تو لوگ ان کی کرسیاں چھوڑنے اور اقتدار سے ہٹنے کا انتظا کر تے تھے تاکہ ان کوغدار کہہ دیا جائے لیکن آج وہ وقت بدل گیا ہے آج وہ کرسیاں پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن عوام یہ بولنے سے گھبرا نہیں رہے کہ غدار کون ہیں؟ انہوں نے کہاکہ غدار اس کو کہتے ہیں جو امریکہ میں بیٹھ کر کشمیر کا سودا کر ے،کشمیرکو بھارت کی جھولی میں ڈال دے اورمنہ لٹکا کر پاکستان واپس آئے اسے غدار کہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غداراسےکہتے ہیں جب پورا بین الاقوامی اور پاکستانی میڈیا دیکھ رہا ہواور ٹی وی سکرین پر بیٹھ کر یہ کہے پاکستان کے سفارتخانے اور سفیر صحیح کام نہیں کررہے ہیں اسے غداری کہتے ہیں،غدار وہ ہے جو دوسرے ممالک میں بیٹھ کر کشمیرکو بیچنے کا پلان بنا رہا ہوں، غدار اسے کہتے ہیں جب نوازشریف وزیر اعظم تھا ہر روز جتھے لیکر ایک منتخب وزیر اعظم کے گھر پر چڑھائی کرتے تھے، غدار اسے کہتے ہیں جو ملک اور قوم کے ساتھ دھوکہ کرے اور پاکستان کے عوام کی زندگیوں سے کھیلے، ان کوآفیشلی بھکاری بنا دے اور جب رمضان المبارک میں ایک ایک کلو چینی کیلئے عوام کو لائنوں میں لگنا پڑے اور انگوٹھوں پر نشان لگانا پڑے اور دوبارہ نہ آنا غداری اسے کہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ غداری اس کو کہتے ہیں کہ نوازشریف عوام کا وزیر اعظم تھا، عوام کے ووٹوں سے آیا تھا،جب ایسے وزیر اعظم کو اقتدارسے باہر نکالنے کیلئے آپ اداروں کا استعمال کر تے ہیں تو اس کو غداری کہتے ہیں،جب آپ بغض نوازشریف اور بغض مسلم لیگ (ن)میں قومی اداروں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں ان کو غدار کہتے ہیں، عوام کی نظر میں قومی اداروں کو مجرم ٹھہراتے ہیں،عوام کے بالقابل لاکر کھڑا کرتے ہیں اسے غداری کہتے ہیں۔مریم نواز نے کہاکہ عمران خان جب بھارت کی سر زمین پر بیٹھ کر اپنی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بات کر تا ہے تو اس کو غداری کہتے ہیں، جب 2018ء کے الیکشن میں آر ٹی ایس کو بٹھا کرعوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈال کر ایک سلیکٹڈ کو 22کروڑ کے سروں پر مسلط کرتے ہیں تو اسے غداری کہتے ہیں۔ مریم نواز نے کہاکہ جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی جیسے ججوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں صرف اس لئے کہ آپ سچ بولنے والے ججز کو بر داشت نہیں کر سکتے، جب ججز آئین و قانون کے ساتھ کھڑے ہونگے تو عمران خان کا نام لیوا کوئی نہیں ہوگا اور عدلیہ کو متنازعہ بناتے ہیں اسے غداری کہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب تم مذہبی جماعتوں کونوازشریف کے خلاف استعمال کرتے ہو،فیض آباد میں دھرنا دلواتے ہو اسے غداری کہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہ دن یاد ہے جب مسلم لیگ (ن)کی حکومت کے خلاف دھرنے دلوائے، نوازشریف جیسے اسلام پر چلنے والے پر جوتا پھینکوا تھا، جب احسن اقبال کو گولی لگی تھی، یاد ہے وہ دن جب خواجہ آصف کے منہ پر کال سیاہی پھینکی گئی، تمہاری حکومت آئی تو تم نے انہیں مسجدمیں میں گھس پر شہید کیا؟ جب ہماری پاکستانی بھائیوں اور پولیس والوں سڑکوں شہید ہونے کیلئے چھوڑ دیا اس کو غداری کہتے ہیں۔ریم نواز نے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ نوازشریف نے جو بیانیہ دیا تھا جن حقائق کو نوازشریف نے بیان کیا تھا نوازشریف کے مخالفین اور دشمنوں نے وہی باتیں کر کے نوازشریف کے بیانیہ پر مہر تصدیق کر دی۔ مریم نواز نے کہاکہ فلسطینیوں پر مظالم ہورہے ہیں،یاد ہے کہ اس یہودی کے رشتہ کے حق میں مہم کس نے چلائی تھی؟ آج تم ایک ٹوئٹ فلسطینیوں کے حق میں کر کے سمجھتے ہوتم نے فلسطینیوں کے خون کا حق ادا کر دیا قوم کو وہ وقت بھولا نہیں جب تم گولڈ اسمتھ کی مہم چلا رہے تھے،کس منہ سےفلسطینیوں کے حق میں بات کروگے، عوام کو وہ منظر نہیں بھولا۔ مریم نواز نے کہاکہ اس نالائق کی وجہ سے عوام پر قیادت ٹوٹ پڑی ہے، اس رات کی صبح طلوع ہونے کو ہے، نوازشریف کا سورج ایک بار پھر طلوع ہونے کو ہے؟ مسلم لیگ (ن)، نوازشریف، شہباز شریف کا سورج ایک بار پھر طلوع ہونے کو ہے، اور عوام جان گئی ہے کہ اگر اس ملک کے حالات کوئی ٹھیک کر سکتا ہے، ملک کو مشکلات سے نکال سکتا ہے تو وہ نوازشریف ہے۔ انہوں نے کہاکہ غداری کے فتوے بانٹے والوں پر کوئی یقین کر نے کو تیار نہیں، اگر تم نے جاوید لطیف جیسے محب وطن کو غداری کہا تو یاد رکھنا تمہارا یوم حساب قریب ہے۔انہوں نےکہاکہ عوام کے فیصلے عوام پر چھوڑ دو، اور عوام کو ممبران کے درمیان سے ہٹ جائیں عوام جانیں عمران خان جانیں۔ انہوں نے کہاکہ عوام نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہے جو نوازشریف کے بیانیہ کے ساتھ کھڑا ہے میں اس کے ساتھ کھڑی ہوں۔ انہوں نے کہاکہ اگر تم نے شیخوپورہ کے بیٹے جاوید لطیف کو غدار کہا تو نہ صرف شیخوپورہ کا ہر بسنے والا غدار ہے بلکہ ہم سب غدار ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر غذاری کے فتویے باٹنے کا اتنا شوق ہے تو جس کو قانون اور آئین نے غداری کہا ہے اس مشرف کوراتوں رات کیو ں فرار کروا دیا، نہ کسی عدالت اور نہ کسی ا ور میں اتنی ہمت ہے کہ پرویز مشرف جیسے غدار کو پاکستان میں بلوائیں۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس وقار سیٹھ جیسے بہادر ججز کو تاریخ یاد رکھے گی، جس جس کو تم غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہو تاریخ اور عوام انہیں ہیروکے طورپر یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہاکہ وہ وقت دور نہیں جب اس دھرتی کا بیٹا جاوید لطیف انشاء اللہ بہت جلدی ہمارے درمیان ہوگا وہ وقت بھی قریب ہے جب اس دھرتی کا بیٹا نوازشریف انشا ء اللہ ہمارے درمیان موجود ہوگا۔


زیرو پوائنٹ

پہلے جنم کے پانچ ساتھی

میں نے چند برس قبل حیات بعد ازمرگ پر کالم لکھا تھا‘ وہ عام سی فضول تحریر تھی‘ لوگوں نے اسے یاوہ گوئی سمجھ کر اگنور کر دیا لیکن وہ پڑھ کر میڈیکل کالج کی ایک سٹوڈنٹ نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا ’’مجھے بچپن سے خواب آتے ہیں‘ میرا بڑا سا گھر ‘ ایک جوان بیٹا اور بہو ....مزید پڑھئے‎

میں نے چند برس قبل حیات بعد ازمرگ پر کالم لکھا تھا‘ وہ عام سی فضول تحریر تھی‘ لوگوں نے اسے یاوہ گوئی سمجھ کر اگنور کر دیا لیکن وہ پڑھ کر میڈیکل کالج کی ایک سٹوڈنٹ نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا ’’مجھے بچپن سے خواب آتے ہیں‘ میرا بڑا سا گھر ‘ ایک جوان بیٹا اور بہو ....مزید پڑھئے‎