پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

میں نہ سعودیہ گیا اور نہ ہی کوئی صدقات اور فطرانہ کی کوئی تقریب ہوئی، مراد سعید کی وضاحت

datetime 16  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے واضح کیا ہے کہ میں نہ سعودیہ گیا اور نہ ہی کوئی صدقات اور فطرانہ کی کوئی تقریب ہوئی، سیلاب زدگان کی امداد، ترک خاتوں اول کا ہار چرانے والوں اور فرزند زرداری کے ابو کو ہر جگہ فطرانہ ، زکو اورکمیشن نظر آتا ہے ۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ سعودی عرب دورے کے حوالے سے

گیلانی کے بیٹے نے وہی ٹویٹ کیا جس کا ذکر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کیا، انہیں اپنے جھوٹ پر شرم نہیں آتی۔ مراد سعید نے اپوزیشن پر تنقید کہا کہ ترک خاتون اول کا سیلاب زدگان کیلئے دیا ہوا ہار ان کے والد صاحب نے چرا یا، سیلاب زدگان کیلئے جب پاکستان کو امداد ملی تو انہوں نے یہ امداد بھی کھا لی، اس کے بعد جب آئی ڈی پیز آئے تو آئی ڈی پیز کیراشن کیلئے جو امداد اور سامان دیا گیا وہ بھی کھا گئے، اس کے بعد زلزلہ زدگان کیلئے جو صدقہ خیرات، فطرانہ اور امداد ملی وہ بھی کھا گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑھ کر سندھ کے عوام کی گندم بھی کھا گئے، گزشتہ سال جب لاک ڈائون آیا اور لاک ڈائون کا راشن بھی وہ کھا گئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پڑھ لیں یہ وہ لوگ ہیں جو ٹریکٹر اور کسانوں کے نام پر ملنے والا پیسہ بھی ہضم کرگئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں 37 ہزار کمبل ملے وہ کمبل بھی انہوں نے نہیں چھوڑے۔ مراد سعید نے کہا کہ ایک اور خاتون جو جعلسازی میں پکڑی گئی تھی اس کا میڈیا سیل بھی بہت شور مچا رہا ہے، آپ کو یاد ہو گا، اوبامہ کے دورہ پاکستان

کے دوران امریکی خاتون اول نے جو تعلیم کیلئے امداد دی تھی انہوں نے وہ پیسہ بھی کھا لیا اور نیب نے اسکی تحقیقات کا بھی حکم دیا جس پر عدالت نے بھی ان سے سوال پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کی یہ تاریخ ہے اس لئے انہیں ہر جگہ فطرانہ ، زکو اور کمیشن نظر آتا ہے کیونکہ آصف علی زرداری نے صدقہ خیرات میں بھی کمیشن کھایا۔ سندھ اسمبلی کی رپورٹ موجود ہے

انہوں نے زکو اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا پیسہ بھی اور زکو اور فطرانہ کا پیسہ بھی کھا یا۔ وزیر مواصلات نے وضاحت کی کہ نہ تو میں وزیر اعظم کے ساتھ سعودی عرب گیا اور نہ وہاں کوئی زکو اور فطرانہ کی کوئی تقریب ہوئی، سعودی عرب برادر اسلامی ملک ہے، پاکستان میں سعودی سفارتخانے کی

دعوت پر مجھے سعودی فلاحی ادارے کی اس سالانہ تقریب میں مدعو کیا گیا جو ہر سال رمضان میں منعقد ہوتی ہے اور جس طرح امریکی امدادی ادارہ اور جاپانی ادارہ جائیکا کام کرتا ہے اسی طرح سعودی عرب کا ایک ادارہ پاکستان میں فلاحی کام کرتا ہے میں نے نہ انکی طرح اس تقریب میں راشن کی بوریاں پکڑ کر تصویریں بنوائیں اور نہ وہاں کوئی فطرانہ اور زکو اکٹھی ہو رہی تھی، مجھے وہاں جاری ریلیف کی سرگرمیوں کی تقریب میں شرکت کیلئے مدعو کیا گیا اور میں نے فلاحی سرگرمیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور اوورسیز پاکستانیز اور وزیراعظم کے بیان کے حوالے سے بات کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…