پسنی سے چاند کی رویت کی 6 شہادتوں نے عید کے اعلان میں تاخیر کروا دی

  بدھ‬‮ 12 مئی‬‮‬‮ 2021  |  22:30

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے اور ابھی تک بعض شہادتوں کی تصدیق کے باعث چاند کی رویت کا اعلان نہیں کیا جا سکا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق مختلف زونل کمیٹیوں نے اپنے اجلاس ختم کر دیے ہیں اور مرکزی رویت ہلا کمیٹی کو آگاہ کر دیا ہے کہ ان علاقوں چاند نظرنہیں آیا، رویت ہلال کمیٹی کو بلوچستان کے علاقے پسنی سے چاند کی رویت کی چھ شہادتیں موصول ہوئی ہیں، ان گواہوں کو ڈی سی آفس پسنی پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے، ڈپٹی کمشنر کی موجودگی میں


ان افراد سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سوال کرے گی اور ان کی گواہیوں کے سچ یا جھوٹ ہونے کی تصدیق کرے گی ان گواہیوں کی تصدیق کے بعد ہی رویت ہلال کمیٹی کی طرف سے حتمی اعلان کیا جائے گا۔ دوسری جانب مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کل عید کا اعلان کر دیا، سماء ٹی وی کے مطابق مفتی شہاب الدین پوپلزئی کا کہنا ہے کہ 23 گواہ ہیں، لہذا کل پشاور میں عیدالفطر ہو گی۔ شوال کا چاند دیکھنے کے لئے پشاور کی مقامی غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس مسجد قاسم علی خان میں ہوا۔ دوسری جانب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں زونل کمیٹیوں کے اجلاس جاری ہیں۔ جیو ٹی وی کے مطابق پشاور میں زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری ہے جہاں پر اب تک چاند نظر آنے کی سات شہادتیں موصول ہو چکی ہیں ان شہادتوں کو پرکھنے کا عمل جاری ہے جس کے بعد مرکزی رویت کمیٹی کو ان گواہیوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ پشاور کی زونل کمیٹی کے ذمہ داران کا کہناہے کہ پاکستان میں عید کا چاند نظر آنے کے 80 فیصد امکانات ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎