جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

مفتی منیب الرحمن نے صدقہ فطر، فدیہ اور روزے کے کفارے کے نصاب کا اعلان کر دیا

datetime 5  مئی‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے صدقہ فطر، فدیہ اور روزے کے کفارے کے نصاب کا اعلان کر دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مفتی منیب الرحمن کے مطابق فطرانہ اور فدیے کی کم ازکم رقم 140روپے فی کس ہے تاہم اہل ثروت اپنے مالی معیار کے مطابق فطرہ اور فدیہ اداکریں۔جو کے نصاب سے

320روپے ،کھجور کے نصاب سے 960روپے جبکہ کشمش کے نصاب سے فطرہ و فدیہ 1920روپے بنتا ہے ۔دوسری جانب رمضان المبارک میں کورونا ایس او پیزکے نفاذ کے خلاف درخواست سندھ ہائیکورٹ نے خارج کردی ہے۔درخواست گزار بسمہ نورین نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ اعتکاف، تراویح پر پابندی غیر شرعی ہے، اسے ختم کیا جائے۔محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق مذہبی سرگرمیوں پر پابندی نہیں لیکن ایس او پیز پر عمل کرنا لازم ہے۔عدالت نے ایس او پیز پرعملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست خارج کردی۔علاوہ ازیں نظام مصطفی پارٹی کے چیئرمین سابق وفاقی وزیرپیٹرولیم ڈاکٹر حاجی محمدحنیف طیب،پارٹی کے مرکزی صدرمیاں خالدحبیب الٰہی ایڈووکیٹ،جنرل سیکریٹری پروفیسرعبدالجبارقریشی،چیف آرگنائزرانجینئرعبدالرشید ارشد،سندھ کے صدرپیر سید لیاقت علی شاہ نے مشترکہ بیان میں کہاکہ اگرحکومت نے یورپی یونین کے دباؤ میں آرٹیکل 295Cختم کرنے

یاترمیم کرنے کی کوشش کی توپاکستانی عوام سراپااحتجاج ہوگی۔رہنماؤں نے کہاکہ حکمرانوں کی بیرون آقاؤ ں سے وفاداری دنیاوآخرت دونوں جہانوں میں خسارے کا باعث بنے گی،حکمرانوں کو ایسے حساس معاملات میں احتیاط برتنی چاہیے کیوں کہ تحفظ ناموس رسالت اورختم نبوت

مسلمانوں کی غیرت ایمانی کا مظہرہے۔رہنماؤں نے یورپی پارلیمنٹ میں اسلام اورآئین پاکستان مخالف قراردادکو مستردکرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اسلامی ریاست اورخودمختارملک ہے کسی بھی بیرونی آقاؤں کی ڈکٹیشن پر کوئی دباؤ قبول نہیں کیاجاسکتاہے ۔رہنماؤں نے کہاکہ ختم نبوت، ناموس رسالت کے تحفظ کے سلسلے میں تمام پارلیمنٹرین حلف کی پاسداری کریں

،حکومت فوری طورپر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکر یورپی پارلیمنٹ کو جرأت مندانہ جواب دیاجائے، تحفظ ناموس رسالت قانون،عقیدہ ختم نبوت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا ۔حکومت تمام مذہبی جماعتوں کے نمائندگان اورعلماء کرام کی میٹنگ بلانے کا اہتما م کریں اس مسئلہ پر اپنا موقف عوام کے سامنے واضح کریں اورعوام میں پائی جانے والی بے چینی کو فوری ختم کیاجائے ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…