جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

منافع خوروں نے آکسیجن سلنڈرز کی قیمت بڑھا دی

datetime 28  اپریل‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)کراچی میں منافع خوروں نے آکسیجن سلنڈرز کی قیمت بڑھا دی ہے، حالانکہ نہ مارکیٹ میں آکسیجن کی بہت طلب کا دبائو ہے، نہ فیکٹری سے گیس مہنگی ہوئی ہے۔کراچی کی بڑی ہول سیل مارکیٹ کے آکسیجن سپلائرز کہتے ہیں کہ میڈیا میں ہوئے شور کے سبب

کچھ منافع خور آکسیجن سلنڈرز کی قیمت بڑھا رہے ہیں۔لکی اسٹار ہول سیل مارکیٹ کے ایک آکسیجن ہول سیل سپلائر نے بتایاکہ آکسیجن سلنڈر اور آکسیجن گیس دونوں کی قیمتیں نہیں بڑھ رہیں، مارکیٹ میں آکسیجن کی وافر مقدار موجود ہے جبکہ طلب بالکل کنٹرول میں ہے۔لکی اسٹار ہول سیل و ریٹیل مارکیٹ میں مختلف ریٹیلرز ایک ہی مقدار کے آکسیجن کے سلنڈر قیمت میں 10، 15 اور 20 ہزار روپے تک کے فرق کے ساتھ بیچ رہے ہیں، یعنی سانس رک جائے مگر منافع نہ رکے۔پاکستان میں فی الحال آکسیجن کی کوئی قلت نہیں اور یہ بات ہول سیل مارکیٹ سے ثابت ہے جہاں خریداروں کا کوئی دباو نہیں ہے۔آکسیجن بنانے والی بڑی کمپنیز کی جانب سے بھی 3 شفٹس کے بجائے 2 پر کام کرنے کی اطلاعات ہیں۔دوسری جانب اسٹیل ملز کا بڑا آکسیجن پلانٹ چلانے کے لیے بھی مختلف اداروں کے ماہرین نے منصوبہ بندی شروع کر دی ہے جس کے بعد آکسیجن کی قیمتوں میں مزید استحکام آنے کا امکان ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…