جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

مجھے میرے ماں باپ کے پاس جانا ہے، مسلمان نوجوان سے کورٹ میرج کرنیو الی رینا میگواڑ کی ویڈیو وائرل

datetime 26  اپریل‬‮  2021 |

بدین (این این آئی) دو ہفتہ قبل مسلمان ہونے کر کڑیو گھنور کے رہائشی مسلمان نوجوان سے کورٹ میرج کرنے والی رینا میگواڈ کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل مجھے میرے ماں باپ کے پاس جانا ہے مجھے یہاں سے کوئی لے جائے وڈیو وائرل پر ایس پی بدین نے فوری نوٹس ۔ 2 ہفتہ قبل گولارچی کے قصبہ کڑیو گھنور شہر کی رہائشی ہندو

میگواڑ کمیونٹی کی رینا میگھوار نامی لڑکی نے اسلام قبول کرکہ اپنے ہی پڑوسی قاسم عرف قاسو خاصخیلی کے ساتھ کورٹ میرج کرکہ اپنا اسلامی نام مریم رکھ لیا تھا۔ اس وقت ہندو لڑکی کے والدین کی مدعیت میں تھانہ کڑیو گھنور پر اغوا کا مقدمہ درج کر لیا گیا تھا مگر لڑکی کی اپنی رضامندی سے اسلام قبول کرنے اور اپنی ہی مرضی سے شادی کرنے کی بنیاد پر متعلقہ عدالت نے درج کی ہوئی ایف آئی آر سی کلاس میں منسوخ کرنے کا حکم جاری کردیا تھا۔لڑکی کی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں لڑکی اپنے والدین کے پاس جانے کا کہہ رہی ہے ایک مکان کی چھت پر کھڑی وڈیو ریکارڈ کرنے والے چھوٹے بچوں جو اس کہ رشتیدار ہی لگتے ہیں ان کو روتے ہوئے مخاطب ہے کہ مجھے یہان نہیں رہنا مجھے اپنے ماں باپ کے پاس جانا ہے یہ لوگ مجھے یہاں سے جانے نہیں دے رہے اس دوان چھت کے دیوار پر لگے شیشے سے اپنے ہاتھ بھی زخمی کرتے ہوئے کسی کو پکار رہی ہے اس دوران اچانک نیچے سے چھپ کر کوئی آتا ہے اور اس کو دوبوچ کر ساتھ لے جاتا لڑکی دوبوچنے اور کھنچنے سے نیچے گرتی ہے جس بعد دیکھائی نہیں دیتی ۔ ایس ایس پی بدین شبیر احمد سیٹھار نے وڈیو اور واقع کا فوری نوٹس لیکر ڈی ایس پی کمپلینٹ سیل محمد شریف کھوسو کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ میرٹ پر انکوائری کرکہ رپورٹ پیش کی جائے اور لڑکی کو پولیس تحویل میں لیکر اسے عدالت میں پیش کیا جائے ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…