جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے‎

datetime 20  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن ) سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم پرنامعلوم شخص کی فائرنگ ،سینئر صحافی گولی لگنے سے زخمی ہوگئے ۔پولیس ذرائع کے مطابق سینئرصحافی ابصار عالم ایف الیون پارک میں واک کررہے تھے کہ نامعلوم شخص نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے ،پولیس ذرائع کے مطابق ابصار عالم کو معروف اسپتال منتقل کردیا گیا، ابصار عالم کو پیٹ میں گولی لگی ہے

حالت خطرے سے باہر ہے ۔ابصار عالم نے بتایا کہ مجھے لگا کہ ایک نامعلوم شخص میری طرف آرہاہے ، وہ شخص مجھ پر فائرنگ کرکے فرارہوگیا ۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے سینئر صحافی ابصار عالم پر فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔دریں اثناء آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمن نے ڈی آئی جی آپریشنزکی زیرنگرانی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے ۔آئی جی اسلام آباد کے مطابق ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم معاملے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹیم وقوعہ میں ملوث ملزم کا سراغ لگانے کے لئے تمام سائنسی اورفرانزک طریقے استعمال کرے۔ ادھر ابصار عالم نے قاتلانہ حملے پر پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروادیا ہے۔اسلام آباد پولیس کو دیے گئے بیان میں ابصارم عالم نے کہا کہ مجھ پر حملہ کرنے والے کی عمر 27 یا 28 سال معلوم ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حملے کے وقت میں اپنے گھر کے قریبی پارک میں واک کررہا تھا اور وہ نوجوان وہاں موجود تھا۔معروف صحافی نے مزید کہا کہ نوجوان نے پستول سے مجھ پر فائر کیا، گولی پیٹ میں دائیں جانب لگی، مجھے دوستوں نے اسپتال پہنچایا۔ادھرذرائع کے مطابق ابصار عالم اسلام آباد میں اپنی رہائشگاہ ایف الیون پارک کے قریب چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک نامعلوم افراد نے ان پر حملہ کر دیا اور گولی مار کر فرار ہو گئے۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، ابصار عالم کو پرائیوٹ گاڑی کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…