اسٹیٹ بینک پارلیمان کو نہیں بین الاقوامی اداروں کو جواب دہ ہوگا،اسکا مینڈیٹ پاکستان کی گروتھ نہیں ہوگی، تہلکہ خیز دعویٰ

  بدھ‬‮ 31 مارچ‬‮ 2021  |  23:24

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہاہے کہ منی بل صرف قومی اسمبلی سے جاری ہوسکتا ہے،اسٹیٹ بنک کو گروی رکھنے کا مقصد پاکستان کی خود مختاری کا سودا کیا جارہا ہے،اسٹیٹ بینک پارلیمان کو نہیں بین الاقوامی اداروں کو جواب دہ ہوگا،اسکا مینڈیٹ پاکستان کی گروتھ نہیں ہوگی،کشمیر کا سودا کر نے کے بعد بھارت سے در آمدکی سمریاں آرہی ہیں ، سی پیک سے جڑے ترقی کو ریزہ ریزہ کردیا، اسکا جواب کون دے گا؟،حکومت نے اب تک ایک ڈالر کی ویکسین کی خردیدای نہیں کی ہے، چین سے


ملنے والی ویکسین من پسند لوگوں کو دی جارہی ہے ،آئندہ جو حکومت الیکشن جیتے گی تو وہ اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دے گی،ایسی معیشت کیساتھ کوئی بھی حکومت نہیں چل سکے گی، اسٹیبلشمنٹ سیاست سے دور ہو جائے اور ملک کو بحران سے نکلنے کا موقع دیا جائے ،مسلم لیگ (ن) پی ڈی ایم کے ڈکلیئریشن کے مطابق جدوجہد جاری رکھے گی ۔ بدھ کو سیکرٹری جنرل مسلم لیگ (ن )احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں نے وزیر اعظم کی نااہلی نے پاکستان کو برائے فروخت پر لاکر کھڑا کردیا ہے،اسٹیٹ بنک کو گروی رکھنے کا مقصد پاکستان کی خود مختاری کا سودا کیا جارہا ہے،اسٹیٹ بینک پارلیمان کو نہیں بین الاقوامی اداروں کو جواب دہ ہوگا،اسکا مینڈیٹ پاکستان کی گروتھ نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے کہنے پر حکومت نے 7 سع ارب روپے کے ٹیکس لگا دیئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں نے یہ ایشو پارلیمنٹ میں اٹھایا وزراء کے پاس اسکا کوئی جواب نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ منی بل صرف قومی اسمبلی سے جاری ہوسکتاہے،اس  حکومت نے آئین و پارلیمنٹ کی دھجیاں بکھیری ہیں،انھوں نے تمام اختیار ائی ایم ایف کو دیدیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ روایات جو پاکستان کو 70 سال سے موجود ہیں اس حکومت نے ختم کر دی ہیں،آئین کے آرٹیکل 73 کے مطابق کوئی بھی منی بل ہو وہ قومی اسمبلی سے شروع ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ یہ حکومت ڈوبتی کشتی کو تیرتےرکھنے دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس حکومت نے کشمیر کا سودا کر دیا ،یہ ہندوتوا پر لیکچر دیا کرتے تھے کس طریقہ سے بھارت میں انتہا پسندی آگئی ہے،اب بھارت سے درآمد کی سمریاں آرہی ہیں ،کیا ہوا چل پڑی ہے،یہ چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ اس حکومت کے پاس قومی مفاد کو دیکھنے صلاحیت نہیں ہے،یہ اپنے مفادات کی قیمتقومی مفادات سے وصول کررہی ہے،جس وزیر اعظم کو معیشت، سیاست اور خارجہ پالیسی چلانے کا نہیں پتا اسے ڈرائیونگ سیٹ دی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ وزیر اعظم ناکام ترین ثابت ہوچکا ہے، عوام نے نہیں بیٹھایا،جنھوں نے بیٹھایا ان سے سوال ہے کہ پاکستان نے انکا کیا بگاڑا ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیا کا ہر ملک پاکستان سےتیز ترقی کرے آخر کیوں؟یہ ترقی کا سفر پاکستان سے چھین کر نالائق حکمران مسلط کردیئے گئے۔احسن اقبال نے کہاکہ 3 سال کے بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں مسلم لیگ ن چھوڑ کرگئی تھی،سی پیک کو نقصان پہنچانے والی حکومت بیٹھائی گئی ،سیاسی عدم استحکام پیدا کرکے پاکستان کا نقصان کردیا گیا ہے،سی پیک سے جڑے ترقی کوریزہ ریزہ کردیا اسکا جواب کون دے گا؟۔ انہوں نے کہاکہ 3 سالوں میں صرف سی پیک اتھارٹی بنانے کی کامیابی ہوئی ہے،وقت تھا کہ 29 ارب ڈالر پر مزید سرمایہ کاری آتی۔ انہوںنے کہاکہ 3 سالوں میں یہ ایک بھی اکانومک زون قائم نہیں کرسکے،ایٹمی صلاحیت اور اپنے عوام کے کرونا سے دفاع میں صلاحیت افغانستان سے بھی کمشرح ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بھی جتنی ویکسینیشن ہورہی ہے وہ برادر چین کی بدولت ہے،یہ چین کی پاکستان دوستی ہ جس سے لوگ ویکیسنیشن کروا رہے ہیں،حکومت نے اب تک ایک ڈالر کی ویکسین کی خردیدای نہیں کی ہے،من پسند لوگوں کو کرونا ویکسین درآمد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومتعوام کو یہ سہولت بھی نہیں دے سکتی تو اسے ٹیکس لینے کا بھی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے،عمران خان قرضہ قرضہ کرتا ہے ہم ن قرضہ لیا تو میگا منصوبے تعمیر کئے۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے قرضوں کی گواہی پاکستان میں تعمیر ہونے والے چپے چپے پر قائم منصوبے ہیں۔احسن اقبال نے کہاکہعمران خان آپ کی حکومت نے شرح سود کو دگنا کردیا جسکی وجہ سے آپ کی حکومت پر قرضوں کو بوجھ ہر دگنا ہوا،آج ڈیٹ ٹو جی ڈی پی شرح 94 فیصد ہوچکا ہے۔سابق وزیر نے کہاکہ آپ اوپن اینڈڈ منصوبے شروع کرتے ہیں تو انکا حشر نیلم جہلم جیسا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ جو حکومت الیکشن جیتے گی تو وہ اپوزیشن میںبیٹھنے کو ترجیح دے گی،ایسی معیشت کیساتھ کوئی بھی حکومت نہیں چل سکے گی۔ احسن اقبال نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ سے کہوں گا کہ وہ سیاست سے دور ہوجائیں،ملک کو اس بحران سے نکلنے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اس حکومت کے وینٹیلیٹر اتارنے کا وقت آگیا ہے،ہم نے پاکستان کی ریاست کو بچانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سب لوگ اپنا اپنا کام کریں۔انہوںنے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے جب بھی مداخلت کی تو اسکے کبھی اچھے نتائجنہیں نکلے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) پی ڈی ایم کے ڈکلیئریشن کے مطابق جدوجہد جاری رکھے گی ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن ائندہ انتخابات میں انتخابی فرنٹ تشکیل دینے کی کوشش کرے گی،وہ فرنٹ جو معاشی اور عوامی حقوق کے لئے کھڑا ہو۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن )آئین کی حکمرانی کے لئے پی ڈی ایم کے ساتھ ہے۔احسن اقبال نے گنز بک آف ورلڈ ریکارڈ انتظامیہ سے بڑا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ سب سے زیادہ یو ٹرن لینے پر عمران خان کو ورلڈ ریکارڈ دیا جائے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎