وزیر داخلہ نے سندھ میں گورنر راج لگانے کی دھمکی دیدی

  جمعرات‬‮ 18 مارچ‬‮ 2021  |  22:06

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ ڈھائی سال گزر چکے، اب ساری اپوزیشن سے بات کریں اور معاملات آگے بڑھائیں، اگر پی ڈی ایم اسلام آباد میں کوئی حرکت کرتی ہے تو اس کا جواب سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کی صورت میں دیا جائے گا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتےہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ڈھائی سال میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم نے خود کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی ٹوٹ پھوٹ پر کوئی بیان نہیں دینا


ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر پی ڈی ایم استعفے دیتی ہے تو فوج کی تعیناتی کے بغیر ضمنی الیکشن نہیں ہوسکیں گے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وفاقی کابینہ میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہونے جارہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں سینئر سیاستدان شیخ رشید احمد نے واضح کیا کہ سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر بنانے کا مشورہ انہوں نے نہیں دیا تھا تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ وزیراعظم کو کہیں اورتعیناتی کیلئے کہا تھا۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمدنے کہا کہ اسلام آباد اور لاہور ہی نہیں بلکہ منسٹر انکلیو تک پر دہشت گردی کے حملے کا خطرہ ہے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر شیخ رشید نے وزیر اعظم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈھائی سال گزر چکے ہیں، اب ساری اپوزیشن سے بات کریں اور معاملات آگے بڑھائیں۔  شیخ رشید احمد نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ ڈھائی سال گزر چکے، اب ساری اپوزیشن سے بات کریں اور معاملات آگے بڑھائیں، اگر پی ڈی ایم اسلام آباد میں کوئی حرکت کرتی ہے تو اس کا جواب سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کی صورت میں دیا جائے گا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ڈھائی سال میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم نے خود کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی ٹوٹ پھوٹ پر کوئی بیان نہیں دینا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎