جے یو آئی نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے عہدہ مانگ لیا،پیپلز پارٹی کا وفاق کا ساتھ چھوڑنے پر یہ عہدہ ایم کیو ایم کو بڑا اہم عہدہ دینے کی پیشکش

  اتوار‬‮ 7 مارچ‬‮ 2021  |  13:59

اسلام آباد ( آن لائن)پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جے یو آئی (ف) نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا عہدہ مانگ لیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے حکومت کا ساتھ چھوڑنے پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا عہدہ ایم کیو ایم دینے کی تجویز پیش کی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ جے یو آئی (ف) نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کےعہدے کیلئے لابنگ شروع کر دی ہے اور اس حوالے سے مسلم لیگ (ن )کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کررہی ہے اور اس حوالے سے مولانا فضل الرحمن مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے خود رابطہ کرکے اس


عہدے کی خواہش کا اظہار کریں گے۔ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدے کیلئے ایم کیو ایم کو مشروط دینے کی تجویز پیش کی ہے ،ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ دینے کی صورت میں ایم کیو ایم وفاقی حکومت کا ساتھ چھوڑ دے گی اور انہیں سندھ حکومت میں بھی ایڈجسٹ کیا جائیگا،ذرائع نے بتایا کہ ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی کی طرف سے آفر دی جا چکی ہے جس پر انہوں نے مشاورت کیلئے وقت مانگا ہے۔پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ ایم کیو ایم حکومت سے نکل گئی تو عمران خان کو نکالنا آسان ہوگا۔پیپلز پارٹی اور جے یو آئی( ف) دونوں اپنی اپنی تجاویز آج پیر کے روز ہونے والے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں رکھیں گے،ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) نے ابھی تک چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے اپنی باضابط سفارشات تیار نہیں کیں ،مسلم لیگ (ن) کی خواہش ہے کہ تمام فیصلے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہونے چاہئیں تا کہ اپنے اصل مقاصد حاصل کئے جا سکیں،اگر تمام پارٹیاں کی نظریں عہدوں پر مرکوز رہیں تو ہم جس منزل کی جانب جارہے ہیں وہاں پہنچنا مشکل ہو جائیگا ۔


زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎