جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

قومی اسمبلی کے باہر احسن اقبال کو سر میں جوتا پڑ گیا

datetime 6  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی چوک میں لیگی رہنما گفتگو کر رہے تھے اور کارکنوں کا ہاتھ ہلا کر جواب دے رہے تھے اس دوران احسن اقبال کو کسی نے جوتا دے مارا، جوتا ان کے سر میں لگ کر دوسری جانب جا گرا۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق یہ جوتا پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے مارا گیا۔ ڈی چوک میں ن لیگ کے

رہنماؤں کی میڈیا سے گفتگو کے دوران تحریک انصاف کے کارکنان نے شدید احتجاج کیا جس سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی، نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، احسن اقبال اور دیگر اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے کہ اسی دوران تحریک انصاف کے کارکنان کی بڑی تعداد ریڈ زون میں داخل ہو گئی۔تحریک انصاف کے کارکنوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، ان پلے کارڈ پر وزیراعظم کے حق میں اور لیگی رہنماؤں کے خلاف نعرے درج تھے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے شدید نعرے بازی جس سے لیگی رہنماؤں کو میڈیا سے بات چیت کرتے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہاں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، اس موقع پر تحریک انصاف اور ن لیگ کے کارکنان آمنے سامنے آ گئے، ن لیگ کے کارکنوں نے اپنے رہنماؤں کو حفاظتی حصار میں لے لیا۔ ن لیگ اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی، مصدق ملک اور شاہد خاقان عباسی بھی تحریک انصاف کے کارکنوں سے دست و گریباں ہو گئے، اس موقع پر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ اس موقع پر احسن اقبال نے کہا کہ یہ تمام غنڈے عمران خان کے ہیں، ہم ن لیگ کے شیر ہیں ڈرنے والے نہیں۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…