قومی اسمبلی کے باہر احسن اقبال کو سر میں جوتا پڑ گیا

  ہفتہ‬‮ 6 مارچ‬‮ 2021  |  12:52

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی چوک میں لیگی رہنما گفتگو کر رہے تھے اور کارکنوں کا ہاتھ ہلا کر جواب دے رہے تھے اس دوران احسن اقبال کو کسی نے جوتا دے مارا، جوتا ان کے سر میں لگ کر دوسری جانب جا گرا۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق یہ جوتا پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے مارا گیا۔ ڈی چوک میں ن لیگ کےرہنماؤں کی میڈیا سے گفتگو کے دوران تحریک انصاف کے کارکنان نے شدید احتجاج کیا جس سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی، نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق لیگی رہنما شاہد خاقان


عباسی، مریم اورنگزیب، احسن اقبال اور دیگر اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے کہ اسی دوران تحریک انصاف کے کارکنان کی بڑی تعداد ریڈ زون میں داخل ہو گئی۔تحریک انصاف کے کارکنوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، ان پلے کارڈ پر وزیراعظم کے حق میں اور لیگی رہنماؤں کے خلاف نعرے درج تھے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے شدید نعرے بازی جس سے لیگی رہنماؤں کو میڈیا سے بات چیت کرتے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہاں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، اس موقع پر تحریک انصاف اور ن لیگ کے کارکنان آمنے سامنے آ گئے، ن لیگ کے کارکنوں نے اپنے رہنماؤں کو حفاظتی حصار میں لے لیا۔ ن لیگ اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی، مصدق ملک اور شاہد خاقان عباسی بھی تحریک انصاف کے کارکنوں سے دست و گریباں ہو گئے، اس موقع پر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ اس موقع پر احسن اقبال نے کہا کہ یہ تمام غنڈے عمران خان کے ہیں، ہم ن لیگ کے شیر ہیں ڈرنے والے نہیں۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎