پی ڈی ایم کا قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کا فیصلہ، نئے انتخابات کا مطالبہ

  جمعہ‬‮ 5 مارچ‬‮ 2021  |  21:51

اسلام آباد(آن لائن)مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی سمیت پی ڈی ایم شامل اپوزیشن جماعتوں نے ہفتہ کے روز قومی اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا۔نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل تمام اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہفتہ کو وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ لینے سے متعلق بلائے گئےقومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گی۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ ہفتہ کو بلایا گیا اجلاس غیر قانونی ہے اور غیر قانونی اجلاس میں اپوزیشن کا کوئی رکن شرکت نہیں کرے گا۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی


ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا کوئی بھی رکن آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا،اپوزیشن کی عدم شرکت کے بعد اس اجلاس کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں، عمران خان اپنی پارٹی کے اراکین کو بکاؤ مال کہہ رہے ہیں، کل وہ اعتماد ان اراکین سے بھی لیں گے،صدر مملکت نے اجلاس بلانے کیلئے یہی لکھا ہے کہ اکثریت کا اعتمادکھوچکے ہیں،عمران خان نے جس لب ولہجے میں قوم سے خطاب کیا اس سے شکست چھلک رہی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جب عدم اعتماد ہوا تھا تو اس وقت جن لوگوں نے اپنی وفاداریاں بیچی تھیں اسی عمران خان نے کہا تھا کہ یہ ان کے ضمیر کی آواز ہے اور آج وہ اپنی پارٹی کے لوگوں کے ان کو ووٹ دینے پر دھوکہ اور خرید و فروخت سے کیوں تعبیر کررہے ہیں؟جو عمران خان صادق وامین کے دعوے کرتے رہیں ہیں وہ آج کہاں گئے ہیں؟ آج ان سب دعوؤں کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے، اب کہتے ہیں کہ جو مجھے ووٹ نہیں دےگا ہم لوگوں کو نکال دیں گے اوران کی رکنیت ختم کردیں گے، میں پوچھتا ہوں ایسا کیوں کریں گے؟ آپ نے ایک کروڑ نوکریوں کی بات کی تھی مگر آپ نے 3کروڑ ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا،آپ نے مختلف اداروں کو کارکنوں کونکال کر ان اداروں کو کیوں کمزور کیا؟ آپ نے اشیا ضروریہ میں سو سے دو سو فیصد قیمتیں کیوںبڑھائیں؟ گھی، آٹا، چینی کیوں مہنگا کیا؟ یہ لوگ آپ سے پوچھیں گے کیونکہ مہنگائی کے ذمہ دار حکومت ہے۔لاکھوں لوگوں کو تجاوزات کے نام پر گھروں سے محروم کردیا گیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ عمران خان کو سینیٹ میں شکست ہوئی تو پوری حکومت الیکشن کمیشن کے پیچھے پڑ گئی اور الیکشن کمیشن کو مورد الزامٹھہرایا جارہاہے ہم سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹھہرانا اور کمیشن کے سینیٹ الیکشن میں کردار کے حوالے سے بات کرنا یہ اصل موضوع نہیں ہے اگر عمران خان کا الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹھہرانے کا مقصد فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے دباؤ ڈالنا ہے،ہم حکومت کی تمام چالوں کو جانتے ہیں لہذا اب قوم کو آپمزید بے وقوف نہیں بناسکتے۔انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی کے آج ہونیوالے اجلاس میں اپوزیشن کا کوئی رکن نہیں جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنا فیصلہ کیا ہے اگر جن اٹھارہ لوگوں نے ہمیں سینیٹ الیکشن میں ووٹ دیا ہے اگر وہ جارہے ہیں تو یہ سوال ان سے پوچھیں کیونکہ جن کو عمران خان بکاؤ مال کہہ رہاہے آج وہ ان لوگوں سے اعتماد کا ووٹ لیں گے،تاہم ان اراکین کا ہم سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم اپنے فیصلوں اور اعلانات پر قائم ہیں اور آٹھ مارچ کو سربراہی اجلاس ہوگا اور اس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت کی جائے گی اور تمام فیصلے اجلاس میں ہوں گے۔ہوا کارخ بدلنے کےحوالے سے سوال پر انہوں نے کہاکہ ہواؤں کا رخ کب سے بدلا ہوا ہے جب ہم نے پچھلا لانگ مارچ کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے لہذا نئے انتخابات کرانے کا فوری اعلان کیا جانا چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جب اپوزیشن قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی تو اس اجلاس کی اہمیت کی ختم ہو جائے گی اور یہ یکطرفہ کارروائی ہوگی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎