نیب نے اسحاق ڈار اور اکرم درانی کو خوشخبری سنا دی

  بدھ‬‮ 3 مارچ‬‮ 2021  |  23:22

اسلام آباد (این این آئی) نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار ،سابق وزیر ہائوسنگ اکرم خان درانی کے خلاف انکوائریز عدم ثبوت کی بنیاد پر بند کر نے اور سابق چیئر مین سی ڈی اے امتیاز عنایت الٰہی اور سابق ڈائریکٹر جنرل پارکس اینڈ ہارٹی کلچر لیاقت علی خان کے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کر نےاوراپوزیشن لیڈر شہباز شریف و دیگر کے خلاف انکوائری منظوری دیدی ۔ بدھ کو قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا۔اجلاس


میں ڈپٹی چیئرمین نیب،پراسیکوٹر جنرل اکاؤنٹبلیٹی نیب،ڈی جی آپریشنز نیب، ڈی جی نیب راولپنڈی اور دیگر سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔ نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے جو قانون کے مطابق ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کر نے پر سختی سے یقین رکھتا ہے۔نیب کی تمام انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی جاتی ہیں جوکہ حتمی نہیں ہوتیں۔ نیب قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعدمزید تحقیقات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلا س میں 2 ریفرنسز کی منظوری دی گئی۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں امتیاز عنایت الٰہی سابق چیئرمین سی ڈی اے ا ور دیگر کے خلاف بدعنوانی کاریفرنس دائر کرنے کیمنظوری دی گئی۔ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیرقانونی طورپر دومنسوخ شدہ کمرشل پلاٹس کو بحال کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانہ کو 200ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں لیاقت علی خان سابق ڈائریکٹر جنرل پارکس اینڈ ہارٹی کلچر،کراچی میونسپلکارپوریشن ا ور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پراختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کلفٹن کراچی باغ ابن قاسم کے رفاعی پلاٹ کو غیرقانونی طور الاٹ کرنے اور ملغمل کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچا۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں 8انکوائریز کی منظوری دی گئی۔جن میں میاں محمد شہباز شریف سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر،ریاض لال جی اور دیگر،علی شیر محسود سابق ممبراین ایچ اے اور دیگر،ملک احمد خان سی ای او پبلک پرئیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی اور دیگر، راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران/اہلکاران اور دیگر،اسد اللہ فیض جوائنٹ سیکرٹریوزارت صحت، اسلام آباد،سمال ڈیمز آرگنائیزیشن کے افسران /اہلکاران اور دیگر،نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ اسلام آباد کی انتظامیہ اور دیگرکے خلاف انکوائری کی منظوری شامل ہے جبکہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں سی ڈی اے کے افسران /اہلکاران اور دیگر کیخلاف انوسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی۔قومیاحتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں اسحق ڈار سابق وزیر خزانہ،چئیرمین ایف بی آر اور دیگر،اکرم خان درانی سابق وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس،اوگرا کے افسران /اہلکاران اور دیگر، این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز/انتظامیہ اور دیگر، محکمہ آبپاشی کے افسران /اہلکاران اور دیگر اورناصر محمود عباسی کے خلافانکوائریز اب تک کے عدم ثبوت کی بنیاد پر قانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی گئی۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں نیو یارک امریکہ میں قائم روز ویلٹ ہوٹل کو سو سال کے بعدبندکرنے کاجائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ حکومت نے اس ضمن میں جو کمیٹی تشکیل دی ہے اس کی ٹی او آرز کا قانون کے مطابقجائزہ لیا جائے۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں نادرہ کے افسران /اہلکاران اور دیگرکے خلاف تحقیقات کا معاملہ قانون کے مطابق کارروائی کیلئے وزارت داخلہ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں سی ڈی اے کے افسران /اہلکاران اور دیگرکے خلاف دو مقدمات میںتحقیقات کا معاملہ قانون کے مطابق کارروائی کیلئے سی ڈی اے کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں عمر ملک اور دیگر کے خلاف تحقیقات کا معاملہ قانون کے مطابق کارروائی کیلئے ایف بی آر کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں نیشنل ہائیوے اتھارٹی کے افسران /اہلکاران اور دیگرکے خلاف تحقیقات کا معاملہ قانون کے مطابق کارروائی کیلئے وزارت مواصلات کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے جس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے سرجری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بڑی مچھلیوںکے خلاف میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اورکرپشن فری پاکستا ن نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر قانون کے مطابق عمل پیرا ہے۔ نیب انسداد بدعنوانی کا قومی ادادرہ ہے۔نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہصرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔نیب نے اپنے قیام سے اب تک 714 ارب روپے موجودہ قیادت کے دور میں 487ارب روپے بدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے سراہا ہے جو نیب کیلئے اعزازکی بات ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیزکی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کیلئے ر یگولیٹرز کو اپنا کردار بروقت ادا کرنا چاہیے۔میڈیا کو بھی غیر ہاوسنگ سوسائٹیزکی اشتہاری مہم کی تشہیر کرنے سے پہلے ہاوسنگ سوسائٹی کیلئے زمین کی موجودگی، لے آوٹپلان کی منظوری اور NOC شامل ہیں کابغور جائزہ لینا چائیے تاکہ غریب عوام غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے ہاتھوں بر وقت اپنی عمر بھر کی جمع پونجی لٹانے سے بچ سکیں۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نے نیب کے تمام علاقائی بیوروز کو ہدایت کی کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹیگیشنز ٹھوس شواہدکی بنیاد پر قانون کے مطابق مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے انوسٹی گیشن آفیسرز اورپراسیکوٹرز کو ہدایت کی کہ وہ پوری تیاری کے ساتھ معزز عدالتوں میں نیب مقدمات کی پیروی کریں جہاں قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب ایک انسان دوست ادار ہ ہے جس میں آنے والے ہر شخص کی عزت نفس کا مکمل خیال رکھا جائے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

اللہ ہی رحم کرے

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎