اگر یوسف رضا گیلانی سینٹ کی نشست جیت گئے تو اسمبلیاں تحلیل ہو سکتی ہیں، تہلکہ خیز پیش گوئی

  پیر‬‮ 1 مارچ‬‮ 2021  |  18:23

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینٹ انتخابات کے سلسلے میں جوڑ توڑ کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی پوری کوشش ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو جتوایا جائے جب کہ حکومت کی کوشش ہے کہ حفیظ شیخ کو جتوایا جائے۔ اسی حوالے سے وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنے پیغام میں پیش گوئی کی ہے کہ اگر یوسف رضا گیلانی سینٹ کی نشست جیت جایتے ہیں تو اسمبلیاں تحلیل ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب سینیٹ میں پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدواریوسف رضا گیلانی نے حکومتی و اپوزیشن کے اراکین


اسمبلی سے سینیٹ الیکشن میں کامیابی کیلئے تعاون مانگ لیا۔پیر کے روز یوسف رضا گیلانی نے اراکین اسمبلی کے نام خط تحریری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپر خیریت سے ہیں آج ہم تاریخ کے ایک بہت اہم مرحلے پر کھڑے ہیں اور آج جو فیصلے ہم کریں گے وہ ہمارے مستقبل کی سمت طے کریں گے۔ میں نے اس سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ جہاں مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت نے مجھ پر اعتماد کیا ہے، وہاں اس اعتماد کے ساتھ جڑی ہوئی بھاری ذمہ داری کا بھی احساس ہے۔ میں 1985ء سے پارلیمان کا حصہ رہا ہوں اور میرا پچھلی چار دہائیوں کا سفر آپ سب کے سامنے ہے۔ میں 1993ء میں قومی اسمبلی کا سپیکر بنا تو میں نے حکومتی اور اپوزیشن ممبران میں کوئی تفریق نہیں کی اور مجھے فخر ہے کہ ہمارے سیاسی مخالف بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں۔ 2008ء میں جب مجھے وزیر اعظم منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تو تب بھی میں کسی جماعت کا نہیں بلکہ تمام ممبران کا وزیر اعظمرہا اور حزب اختلاف کے ممبران کے لئے وزیر اعظم ہاؤس اور دفتر کے دروازے ہر وقت کھلے رہے۔ آج بھی ہمیں اس یکجہتی کی ضرورت ہے۔ سیاسی اور نظریاتی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں۔ آج ہم نے پارلیمان کے تقدس اور وقار کی بحالی کے لئے اکٹھے ہونا ہے، میں یہ الیکشن اپنی انا کی تسکین یا کسی حکومت کے خلاف نہیںلڑ رہا بلکہ اس پارلیمنٹ کی ناموس کے لئے لڑ رہا ہوں۔جس نے مجھے اور آپ کو عزت بخشی ہے۔ میرے پر اس پارلیمان کا قرض ہے، احسان ہے، یہ پارلیمان میرا گھر ہے اور آپ سب میرا خاندان ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ 3 مارچ کو میری زندگی، کردار اور سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ کریں گے، انشاء اللہ اپنے اور اس پارلیمان کے حق میں فیصلہ کریں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎