محبت مجھ سے شادی کسی اور سے۔۔۔ دولہے پر چاقو سے حملہ کرنیوالی لڑکی نے خودکشی کرلی

  پیر‬‮ 1 مارچ‬‮ 2021  |  13:15

نوابشاہ(این این آئی)نواب شاہ میں پسند کی دوسری شادی کرنے والے دولہا پر شادی کی خواہش مند رشتہ دار لڑکی نے حملہ کردیا، شادی ہال میں گھس کر چھری کے وار سے دولہا کو زخمی کردیا اور بعد میں خودکشی کرلی۔پولیس کے مطابق مریم روڈ کے شادی ہال میں اسکول ٹیچر نیاز مہر کی دوسری شادی کی تقریب جاری تھی کہ اچانک ناہید مہر نامیرشتہ دار لڑکی نے دولہا پر دلہن کے ساتھ تصویر بنواتے وقت اچانک حملہ کرکے پیٹ میں چھری گھونپ دی اور شدید زخمی کردیا۔اس اچانک حملے سے تقریب افراتفری کا شکار ہوگئی اور دلہن بے ہوش


ہوگئی، واقعے کے بعد دولہا کو اسپتال جبکہ حملہ آور لڑکی ناہید مہر کو بی سیکشن پولیس کے حوالے کردیا گیا۔پولیس کے مطابق اس کے رشتہ دار جو کہ دولہا کے بھی قریبی عزیز ہیں اس یقین دہانی کے بعد کہ آپس میں فریقین کا صلح نامہ کرادیں گے حملہ آور ناہید مہر کو ہمراہ لے گئے تاہم پولیس کے مطابق رات گئے ناہید مہر کی لاش سمیت ورثا پیپلز میڈیکل اسپتال پہنچے۔انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد ناہید ذہنی دبائو میں تھی اور اس نے دوپٹے کا پھندہ لگا کر خودکشی کرلی جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ متوفیہ ناہید مہر کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب ایس ایس پی شہید بینظیر آباد تنویر حسین نے واقعے کا نوٹس لے لیا، ان کے حکم پر ایس پی ظفر صدیق کی سربراہی میںانکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ایس ایس پی تنویر حسین کے مطابق انکوائری کمیٹی 3 دن میں رپورٹ پیش کرے گی، انھوں نے کہا معاملے میں جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔خاتون کی ایک ویڈیوبھی سامنے آئی ہے، یہ ویڈیو ریکارڈ کرانے کے بعدناہید نامی خاتون نے خود کشی کی، ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ نیاز مہر جو کہ ان کا استاد ہے، نے ان سے شادی کا وعدہ کیا تھا۔متوفی ناہیدنے کہا کہ نیاز مہر نے کہا تھا کہ دوسری شادی وہ اس سے کرے گا، لیکن پھر کسی اور سے شادی کرنے لگا اور کہا کہ جو کر سکتی ہو کر لو۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎