اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

تحریک انصافی قائدین کے ’’اوپرکا چیمبر‘‘ بالکل خالی ہوچکا ہے ورنہ وہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سراہتے، حافظ حسین احمد کی شدید تنقید

datetime 27  فروری‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کوئٹہ ( آن لائن ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ ماضی میں 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر تحریک انصاف نے چار حلقے کھو لنے کے لیے 126 دن کا دھرنا دیا لیکن آج ڈسکہ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے تاریخی فیصلے کو چیلنج کیا جارہاہے۔ وہ ہفتہ کو

اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں کوئٹہ، سبی، گوجرانوالہ ، لورالائی کے رہنماؤں اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی اور چوری کی ساتھ،ساتھ پنجاب حکومت کی سینہ زوری اور وفاقی حکومت کا بزدار کی نا اہلی کے لیے ایک بار پھر ماضی کی طرح پشتی بانی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا لگتا ہے کہ تحریک انصافی قائدین کے اوپر کا چیمبر بلکل خالی ہوچکا ہے کیونکہ پی ڈی ایم کی گیارہ پارٹیاں اپنے 20ستمبر 2020ء کے اجلاس میں 31دسمبر تک استعفیٰ دینے، ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے اور سینٹ کے الیکٹورل کالج کو توڑنے کے متفقہ فیصلہ کرچکے تھے اور ان فیصلوں کو جس انداز میں بلاول زرداری نے یکطرفہ طور پر ویٹو کے ذریعے پی ڈی ایم پر ’’خودکش یوٹرن ‘‘ کے ذریعہ مسلط کیاکیونکہ اس پر باقی 10 پارٹیوں کے تجربہ کار سیاستدانوں کے بیانیہ کی ایسی کی تیسی ہوگئی لیکن اگر کپتان یا اس کے کھلاڑیوں میں کوئی سیاستدان ہو تا؟ تو وہ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کونہ صرف سرہاتے بلکہ آنکھوں سے لگاتے کیونکہ اس فیصلے نے دراصل پی ڈی ایم جس کے سامنے الیکشن کمیشن ہی ’’ مجرم ‘‘ بنی ہوئی تھی اسے اب ’’محرم‘‘ بنا دیا اور یہ طے شدہ متفقہ فیصلوں سے انحراف کا جبر ہے کہ پی ڈی ایم تو الیکشن کمیشن کا حامی و ناصربن گئی اور PTI الیکشن کمیشن کا مدعی اور مخالف اور یہی تو ہماری سیاسی تربیت کا نچوڑہے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…