جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

تحریک انصافی قائدین کے ’’اوپرکا چیمبر‘‘ بالکل خالی ہوچکا ہے ورنہ وہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سراہتے، حافظ حسین احمد کی شدید تنقید

datetime 27  فروری‬‮  2021 |

کوئٹہ ( آن لائن ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ ماضی میں 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر تحریک انصاف نے چار حلقے کھو لنے کے لیے 126 دن کا دھرنا دیا لیکن آج ڈسکہ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے تاریخی فیصلے کو چیلنج کیا جارہاہے۔ وہ ہفتہ کو

اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں کوئٹہ، سبی، گوجرانوالہ ، لورالائی کے رہنماؤں اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی اور چوری کی ساتھ،ساتھ پنجاب حکومت کی سینہ زوری اور وفاقی حکومت کا بزدار کی نا اہلی کے لیے ایک بار پھر ماضی کی طرح پشتی بانی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا لگتا ہے کہ تحریک انصافی قائدین کے اوپر کا چیمبر بلکل خالی ہوچکا ہے کیونکہ پی ڈی ایم کی گیارہ پارٹیاں اپنے 20ستمبر 2020ء کے اجلاس میں 31دسمبر تک استعفیٰ دینے، ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے اور سینٹ کے الیکٹورل کالج کو توڑنے کے متفقہ فیصلہ کرچکے تھے اور ان فیصلوں کو جس انداز میں بلاول زرداری نے یکطرفہ طور پر ویٹو کے ذریعے پی ڈی ایم پر ’’خودکش یوٹرن ‘‘ کے ذریعہ مسلط کیاکیونکہ اس پر باقی 10 پارٹیوں کے تجربہ کار سیاستدانوں کے بیانیہ کی ایسی کی تیسی ہوگئی لیکن اگر کپتان یا اس کے کھلاڑیوں میں کوئی سیاستدان ہو تا؟ تو وہ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کونہ صرف سرہاتے بلکہ آنکھوں سے لگاتے کیونکہ اس فیصلے نے دراصل پی ڈی ایم جس کے سامنے الیکشن کمیشن ہی ’’ مجرم ‘‘ بنی ہوئی تھی اسے اب ’’محرم‘‘ بنا دیا اور یہ طے شدہ متفقہ فیصلوں سے انحراف کا جبر ہے کہ پی ڈی ایم تو الیکشن کمیشن کا حامی و ناصربن گئی اور PTI الیکشن کمیشن کا مدعی اور مخالف اور یہی تو ہماری سیاسی تربیت کا نچوڑہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…