ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کی موجودگی سے متعلق ترجمان پاک فوج کا اہم اعلان

  پیر‬‮ 22 فروری‬‮ 2021  |  20:01

راولپنڈی ( آن لائن )پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کی موجودگی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کے جو نکات تھے ان پر اچھا خاصا کام ہوا ہے لیکن پاکستان نے پچھلے 3 سے 4 سال میں جو کام ہوا ہے اس کی توثیق ہر سطح پر ہوئی ہے اور اس حوالے سے ہم بہت مثبت ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ڈی جی آئی ایس آئی کیتبدیلی کے حوالے سے رپورٹس کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان خبروں


میں کوئی صداقت نہیں ہے ،گزارش کرتا ہوں کہ اس پر مزید قیاس آرائیں نہ کی جائیں ،عوام فوج کی طاقت ہوتی ہے عوام ساتھ ہو تو فوج کچھ بھی کر سکتی ہے ، اس بار23 مارچ کو یوم پاکستان بھر پور طریقے سے منائیں گے ،یوم پاکستان کامقصدہے ایک قوم،ایک منزل، ، عوام کے تعاون سے ہرچیلنج پرقابوپائیں گے،دہشت گردوں نے پاکستان کو مفلوج کرنے کی کوشش کی جسے پاک فوج نے ناکام بنا دیا ہے ،امن کا سفر کامیابی سے جاری رہے گا ۔عوام کی مدد سے ہی ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا ۔ قبائلی علاقوں میں ریاست کی رٹ بحال ہوگئی ہے طاقت کااستعمال صرف ریاست کی صوابدیدہے، آپریشن ردالفساد کو 4 سال مکمل ہوگئے۔نیشنل ایکشن پلان کے مکمل اہداف حاصل کریں گے،پاکستان نے افغان امن کیلئے بہت مثبت کرداراداکیا،پوری دنیاافغان امن کیلئے پاکستان کے کردارکوسراہتی ہے، پاکستان کے ڈوزیئرکوعالمی برادری نے سراہاہے۔پیر کے روز پاک فوج کے ترجمان اور شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آپریشن ردالفساد کا مقصد ایک پرامن اور مستحکم پاکستان تھا اور ہے اور ہر پاکستانی اس آپریشن کا سپاہی ہے۔ آپریشن ردالفساد کے 4 سال مکمل ہوگئے ہیں اور اس پر قوم کو آپریشن کے ثمرات اور ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال سے آگاہی دینا ہی اس پریس کانفرنس کا مقصد ہے ۔انہوں نے کہا کہ 22 فروری 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں آپریشن ردالفسار کا آغاز کیا گیا، اس آپریشن کی بنیادی اہمیت جو اسے دیگر تمام اہمیت سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ آپریشن کسی مخصوص علاقے پر مبنی نہیں تھا بلکہ اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا اس کا سٹرٹیجک مقصد ایک پرامن، مستحکم پاکستان تھا اورہے جس میں عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہو اور دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کی آزادی کو سلب کرکے انہیں مکمل طور پر غیر مؤثر کردیا جائے ردالفساد کا بنیادی محور عوام ہیں جبکہ جب مسلح فورس دہشت گردوں سے لڑ رہی ہوتی ہیں تو دہشت گردی اور عسکریت پسندی کو صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاشرے کی طاقت سے شکست دی جاسکتی ہے اسی مناسبت سے ہر پاکستانی ناصرف اس آپریشن کا حصہ ہے بلکہ پوری قوم کی سوچ کے تحت ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے۔انہو ںنے کہاکہ 2017 میں یہ آپریشن دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا جب دہشت گردوں نے قبائلی اضلاع میں اپنے انفرااسٹرکچر کی تباہی اور مختلف آپریشن میں بھاری تباہی اٹھانے کے بعد پاکستان کے طول و عرض میں پناہ لینے کی کوشش کی، دہشت گرد، ان کے سہولت کار شہروں، قصبوں، دیہات، اسکولوں، مدارس، عبادت گاہوں، کاروباری مراکز حتیٰ کہ بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانا کر زندگی کو مفلوج کرنے کی ناکام کوششوں میں بھی مصروف تھے ایسےمیں اس ماحول کو دیکھتے ہوئے ٹو پرونگ اسٹریجی کے تحت شروع کیا گیا، جس میں ایک پرونگ انسداد دہشت گردی (کاؤنٹر ٹیررازم) کو دیکھتا تھا جبکہ دوسرا انسداد پرتشدد انتہا پسندی(کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریم ازم) کو دیکھتا تھا، جہاں تک انسداد دہشت گردی پرونگ کا تعلق ہے تو اس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے، اس کے ساتھ مؤثر بارڈر منیجمنٹ سسٹم کے ذریعے ویسٹرن زون کا مکمل استحکام اور ملک بھر میں دہشت گردوں کی حمایت کا خاتمہ شامل تھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نےانسداد پرتشدد انتہا پسندی کی بات کریں تو یہ واضح ہے کہ ایک نظریہ کا مقابلہ صرف اس سے برتر نظریے یا دلیل کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے، اسی تناظر میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، قبائلی علاقوں کی قومی دھارے میں شمولیت، تعلیمی مدرسہ اور پولیس ریفارم میں حکومتی کاوشوں میں بھرپور معاونت کے ذریعے شدت پسندی کے عوامل پر قابو پانا شامل تھا پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو بڑی حکمت عملی تھی تو اسے 4 الفاظ میں بیان کرسکتا ہوں جو ’کلیئر، بولڈ، بلٹ اینڈ ٹرانسفر‘ تھے،یہ وہ 4 مراحل تھے جس کے تحت ہم نے یہ لڑائی لڑی۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ 2010 سے اگر 2017 تک دیکھیں تو کلیئر اور بولڈ مرحلے کے تحت بڑے آپریشن کے بعد مختلف علاقوں کو دہشت گردوں سے صاف کرایا جاچکا تھا اور قبائلی علاقوں میں ریاست کی رٹ بحال ہورہی تھی۔ ردالفساد بلٹ اینڈ ٹرانفسر مرحلے کا آغاز ہے، اس دوران مشکل سے حاصل ہونے والے فوائد کو ناقابل واپسی بنانا ہماری ذمہ داری تھی اور یہی چیز اصل میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی کاحقیقی پیمانہ بھی ہے، آپریشن کے ذریعے علاقہ صاف کرنے کے بعد سماجی و معاشی ترقی اور سول اداروں کی عمل داری دائمی امن کی جانب درست اقدام ہے اور اب اس کا اعتراف دنیا بھی کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 4 برسوں میں آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 3 لاکھ 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیے گئے جس میں سی ٹی ڈی، آئی بی، آئی ایس آئی، ایم آئی، پولیس، ایف سی اور رینجرز نے بھرپور کردار ادا کیا، جس میں پنجاب میں 34 ہزار سے زائد، سندھ میں ڈیڑھ لاکھ سےزائد، بلوچستان میں 80 ہزار سے زائد اور خیبرپختونخوا میں 92 ہزار سے زائد خفیہ بنیادوں پر آپریشن شامل ہیں، ان میں چند بڑے آئی بی او بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے شہری دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملی اور بہت سے دہشت گرد نیٹ ورک کو ختم کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات پر زور دیا کہ خفیہ ایجنسیوں نے انتھک محنت اور قربانیوں سے کئی بڑے بڑے دہشت گرد نیٹ ورک کا خاتمہ کیا، ان 4 برسوں میں 5 ہزار سے زائد تھریٹ جاری کی گئی، آپریشن ردالفسار کےدوران خیبر 4 آپریشن بھی کیا گیا جس کا مقصد راجگال وادی کو کلیئر کرانا اور اس طرف پاک افغان سرحد کو محفوظ کرنا تھا جبکہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ برس آپریشن دواتوئی کیا گیا اور اس دوران ساڑھے 7سو اسکوائر کلومیٹر کے علاقے پر ریاست کی رٹ بحال کی گئی جبکہ آپریشن کے دوران 72 ہزار سے زائد غیرقانون اسلحہ اور 50 لاکھ سے زائد گولہ بارود ملک بھر سے برآمد کیا گیا،اس کے علاوہ 2017 سے 2021 کے دوران ملک بھر میں دہشتگردی کے ساڑھے 18 سو واقعات رونما ہوئے، پاک افغان سرحد پر 1684 سرحد پر حملے سے واقعات ہوئے، ان تمام واقعات اور آپریشنز کے دوران 353 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا اور سیکڑوں کو گرفتار کیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 2017 سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت اور توسیع کے لیے بہت کوشش کی گئی، ایف سی کے 58 نئے ونگز قائم کیے جاچکے ہیں جبکہ مزید 15 کا قیام عمل میںلایا جانا باقی ہے، مزید یہ کہ سرحدی انتظام کے تحت پاک افغان سرحد پر باڑ کا کام 84 فیصد اور پاک ایران سرحد پر 43 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ بارڈرمنیجمنٹ کی اب مرکزی ایجنڈی وزارت داخلہ ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، فوج میں اعلیٰ سطح کی تقرریوں سے متعلق قیاس آرائی نہ کی جائے ، اس میں کوئی صداقت نہیں، فوج میں بطور ادارہ تعیناتیاں اتنی کم مدتی نہیں ہوتی، ہر کوئی اپنی مدت پوری کرتا ہےاور عام طور پر فوج میں کسی ادارے کے سربراہ کے طور پر تعیناتی 2 سال کے لیے کی جاتی ہے، میری گزارش ہوگی کہ اس طرح کی قیاس آرائیاں مزید نہ کی جائیں۔سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کے خلاف کام کیا جارہا ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا روکنے کے لیے قابل ذکر اقدامات کیے ہیں، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کے خلاف کام کیا جارہا ہے، ہم مرحلہ وار اور حکمت عملی سے کام کررہے ہیں، عوام کے تعاون سے ہر چیلنج پر قابو پائیں گے۔اس موقع پر صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ردالفساد صرف ایک فوجی آپریشن نہیں تھا بلکہ اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا اورنیشنل ایکشن پلان پر پیش رفت بہت حد تک ہوچکی ہے اور کچھ شعبے ہیں ان پر کام ہونا ہے۔ ادارے کی جانب سے جو کام کرنا تھا وہ ہوا ہے اور حکومت نے جو کام کرنا تھا وہ ہو رہا ہے اور جلد مکمل ہوجائے گا اور کام مثبت طرز میں ہورہا ہے اورمستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔افغانستان کے امن عمل سے متعلق سوال پرانہوں نے کہا کہ افغان امن عمل وزارت خارجہ کے دائرے میں آتا ہے اس لیے تفصیلی بات نہیں کروں گا لیکن افغانستان میں امن سے پاکستان میں امن ہوگا اور پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور کرے گا لیکن وہاں کے اقدامات انہوں نے خود کرنا ہے اور امریکی نئی انتظامیہ کے اقدامات سے متعلق مثبت ہیں کہ بہتری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری نے ہمارے ڈوزیئر کا جواب مثبت دیا اور کئی عالمی تنظیموں نے بیانات اور دستاویزات دی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہےدہشت گردوں کی کارروائیوں میں کمی آئی ہے اور ان کی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچایا گیاہے اور مزید کام کرنا ہے، اس کے لیے نئے اقدامات کرنے ہیں اور ٹیکنالوجی کو متعارف کروانا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہو ںنے کہاکہ سوشل میڈیا میں پراپیگنڈا کے حوالے سے مواد پھیلا ہوا ہے اور دہشت گردی کو ابھارنے والے مواد اور لوگوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور جلد ہی کوئی قانون بھی آئے گا، حکومت بھی کام کر رہیں اور یہ مزید فعال ہوگا۔ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کیموجودگی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کے جو نکات تھے ان پر اچھا خاصا کام ہوا ہے لیکن پاکستان نے پچھلے 3 سے 4 سال میں جو کام ہوا ہے اس کی توثیق ہر سطح پر ہوئی ہے اور اس حوالے سے ہم بہت مثبت ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف فوج اور پولیس نے قربانیاں نہیں دی بلکہ عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور اس کا اعتراف کیا جاتا ہےاور اس حوالے امدادی کام متعلقہ صوبوں کی حکومتوں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشقیں نئے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے کی جاتی ہیں اور بہت کامیاب جارہی ہیں، تربیت اور اسلحے سے متعلق ہماری تیاری کے نتائج مثبت آرہے ہیں۔بھارتی میڈیا میں پاکستان مخالف پروگراموں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کو نظر انداز نہیں کیا جاتا ہے لیکن اگر ہر ایک کو جواب دیا جائے پھر ڈس انفو لیب نے انکشافات کیے جس سیکریڈیبلٹی پر واضح سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور جہاںضروری ہو ہم جواب دیتے ہیں اور مستقبل قریب میں ہم اس طرح کے معاملات پر قابو پالیں گے۔چین سے فوج کو ملنے والی کووڈ-19 ویکسین پر بھی سوال کیا گیا اورانہوں نے کہا کہ میڈیا بھی فرنٹ لائن پر ہے اور کس کو دینا ہے یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے اور سب کو دیا جائے گا، جہاں تعلق فوج کا تعلق ہے تو فوج اپنا کام کر رہی ہے اور کرتی رہے گی اور اسی لیے فیصلہ کیا گیا کہ ہم سے زیادہ مستحق وہ ہیں جو خطرے میں کام کرتے ہیں اور آئندہ آنے والی کھیپ میں فوج اورمیڈیا سب شامل ہوگا۔دہشت گردوں کی واپسی کے طریقہ کار پر انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو مختلف مراکز میں مختلف سائیکالوجیکل اور موٹیویشنل طرز پر کام کیا گیا اور اس کا مثبت جواب آیا اور انہیں ڈرائیونگ اور مختلف ہنر سکھا دیے گئے۔ ایک سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گوادر کا کرکٹ اسٹیڈیم دنیا کا خوب صورت ترین میدان ہے لیکن بین الاقوامی میچوں کے لیے الگ تقاضے ہوتے ہیں اور ہوسکے تو پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کا کوئی میچ رواں سیزن یا مستقبل میں کبھی منعقد کیا جائے۔


زیرو پوائنٹ

کلاسیکل مثال

مجھے چند دن قبل ایک دوست نے خوف ناک واقعہ سنایا‘ ان کی گلی میں ایک خاندان رہتا ہے‘ خاوند ملک سے باہر محنت مزدوری کرتا ہے‘ بیٹا شادی شدہ ہے لیکن بے روزگار ہے‘ ایک پوتا اور پوتی بھی ہے‘ خاتون بوڑھی اور بیمار تھی‘ وہ برسوں سے شوگر کی مریض تھی لیکن ادویات اور خوراک میں ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند دن قبل ایک دوست نے خوف ناک واقعہ سنایا‘ ان کی گلی میں ایک خاندان رہتا ہے‘ خاوند ملک سے باہر محنت مزدوری کرتا ہے‘ بیٹا شادی شدہ ہے لیکن بے روزگار ہے‘ ایک پوتا اور پوتی بھی ہے‘ خاتون بوڑھی اور بیمار تھی‘ وہ برسوں سے شوگر کی مریض تھی لیکن ادویات اور خوراک میں ....مزید پڑھئے‎