منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

بنی گالہ میں وزیراعظم کا بھانجا لوگوں کی زمینیں ہتھیانے لگا عمران خان کا پڑوسی اسلام آباد ہائیکورٹ چلا گیا عدالت نے تہلکہ خیز حکم جاری کردیا

datetime 17  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)بنی گالہ میں وزیراعظم کے بھانجے زمین ہتھیارہے ہیں،شہری نے اسلام آبادہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ۔ بدھ کو عمران خان کے پڑوسی عظمت اللہ نے شہراز عظیم کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کر دی،اسلام آباد ہائی کورٹ نے انتظامیہ اور پولیس کو عظمت اللہ کوتنگ نہ کرنے کا حکم دیا ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے

پولیس، انتظامیہ اور عمران خان کے بھانجے کو نوٹسز جاری کر دیئے۔ درخواست میں کہاگیاکہ پولیس اور انتظامیہ نے عمران خان کی رہائشگاہ سے متصل میری زمین پر کام سے روک دیا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے دفتر بلا کر زمین عمران خان کے بھانجے کو فروخت کرنے کا کہا۔دوسری جانب سروے آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کا ماسٹر پلان 1960 میں بنا ، اسلام آباد کا کل رقبہ 906 مربع کلومیٹر ہے، اسلام آباد کو 1992 میں پانچ زونز میں تقسیم کیا گیا، زون ون سب سے بڑا ڈویلپڈ رہائشی علاقہ ہے جس میں اسلام آباد کا ریڈ زون ، سیکٹر ڈی ، ای ، ایف ، جی ، ایچ اور آئی شامل ہیں۔زون ٹو میں ترنول کی جانب کے علاقے جبکہ زون فائیو میں روات کی جانب کے علاقے شامل ہیں، زون تھری اسلام آباد نیشنل پارکس کا علاقہ قرار پایا جس میں نجی تعمیرات کی کوئی گنجائش نہیں، یہ زون مارگلہ کی پہاڑیوں سے ہوتا ہوا مری کے قریب جا پہنچتا ہے۔اسلام آباد کا دیہی علاقہ زون فور میں شامل ہے۔ یہ مری روڈ اور لہتراڑ روڈ

کا درمیانی علاقہ بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سملی روڈ تک کا علاقہ بھی اس زون میں شامل ہے۔ اس زون میں صرف فارم ہائوسز تعمیر کرنے کی اجازت تھی مگر 2010 میں جاری ہونے والے ریگولیشنز کے تحت زون فور میں فارم ہائوسز کے علاوہ نجی ہاوسنگ سوسائٹیوں کی اجازت

مل گئی۔لیکن یاد رہے اسلام آباد کے اس دیہی علاقے میں 2019 تک بلڈنگ ریگولیشنز موجود نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس زون میں ہزاروں بلکہ لاکھوں گھر نجی زمینوں پر تعمیر ہوتے رہے۔ یہاں سرکاری زمین یا ایکوائرڈ لینڈ نہیں تھی۔ اسی وجہ سے یہاں بغیر کسی قانون کی

موجودگی کے مکان تعمیر ہوتے رہے۔وزیر اعظم عمران خان کا گھر بھی اسی زون میں تعمیر ہوا۔اسلام آباد کا زون تھری اور زون فور ایک دوسرے سے متصل ہیں۔ بنی گالہ کا علاقہ بھی انہی دونوں زونز میں آتا ہے۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا گھر کس زون میں

شامل ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق عمران خان کا گھر موضع موہڑہ نور میں ہے۔ یہ علاقہ بنی گالا کا وہ حصہ ہے جو زون تھری سے باہر ہے۔ سروے آف پاکستان کے مطابق عمران خان کی رہائشگاہ زون فور میں آتی ہے اور یہ جگہ زون تھری ختم ہونے کے چھ سو میٹر کے بعد آتی

ہے۔ زون فور میں نجی مکانات بنانا غیرقانونی نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی رہائش گاہ بھی غیر قانونی جگہ پر نہیں تھی۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ اس علاقے میں بلڈنگ کے قوانین ہی موجود نہ تھے۔ یہ قوانین 2019 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی روشنی میں

بنائے گئے۔عدالتی حکم کے بعد قوانین اور ریگولیشنز بننیسے پہلے تعمیر ہونے والی رہائش گاہوں کو قانونی دائرے میں لانے کیلئے ایک فیس مقرر کی گئی جو زون فور کے تمام رہائشیوں پر لاگو ہو گی۔عمران خان نے قانون کی پابندی کرتے ہوئے اسی فیس کے تحت 12 لاکھ روپے

سی ڈی اے کو جمع کرائے اور قانونی جگہ پر موجود عمارت کوریگولرائز کرایا۔عمران خان کی رہائش گاہ سمیت ہزاروں رہائش گاہیں ایک ایسے وقت میں بنیں جب دارالحکومت کے دیہی علاقے کے بلڈنگ بائی لاز موجود ہی نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تعمیرات کو غیر قانونی کہنا غلط ہے۔ اب بائی لاز بن چکے ہیں اور اس زون میں موجود عمارتوں کی ریگولرائزیشن کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…